خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 255

1952 255 خطبات محمود آسان ہوتا ہے لیکن گرمی میں پوری سردی حاصل نہیں کی جاسکتی ہاں سردی میں گرمی پیدا کی کچ جاسکتی ہے۔آج میں جماعت سے ایک ایسے امر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کی طرف باہر سے آئے ہوئے ایک نوجوان نے مجھے توجہ دلائی ہے۔وہ نو جوان باہر سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے مجھے ایک رقعہ لکھا ہے کہ مسجد میں لوگ آتے ہیں تو ؟ ذکر اٹھی کی بجائے ادھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے ذکر الہی کرنے میں بھی روک بنتے ہیں۔پھر اس نوجوان نے یہ بھی لکھا ہے کہ بازاروں میں لوگ نہایت بے تکلفی کی باتیں کرتے ہیں ، ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں اور آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔پہلے میں پہلی شکایت کو لیتا ہوں میں نے متعدد بار جماعت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مساجد ذکر الہی کے لئے ہوتی ہیں اور انہیں اسی غرض کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔لیکن جب ہم اسلام کا اور خصوصاً قرونِ اولیٰ کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ی مساجد کو صرف ذکر الہی کی جگہ ہی نہیں بنایا بلکہ بعض دنیوی امور کے تصفیہ کا مقام بھی بنایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہم دیکھتے ہیں کہ لڑائیوں کے فیصلے بھی مساجد میں ہوتے تھے ، قضا ئیں بھی وہیں ہوتی تھیں، تعلیم بھی وہیں ہوتی تھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد صرف اللہ اللہ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے کام بھی جو قومی ضرورت کے ہوتے ہیں کہ مساجد میں کئے جاسکتے ہیں۔ہاں مساجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ اُس گمشدہ چیز کے متعلق مسجد میں اعلان نہ کرے اگر وہ اس گمشدہ چیز کے متعلق اعلان کرے تو خدا تعالیٰ اس میں برکت نہ ڈالے 1۔پس ایک طرف تو مساجد میں جنگی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں، تعلیم دی جی جاتی ہے، قضا ئیں ہوتی ہیں لیکن دوسری طرف گمشدہ چیز کے متعلق اعلان کرنا مسجد میں منع کیا گیا تو ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ مسجد میں جو کام ہوں وہ قومی ہوں ذاتی نہیں۔گویا مسجد اجتماعی جگہ ہے اور وہاں ایسے کام ہو سکتے ہیں جو اجتماعی اور قومی ہوں۔لیکن شرط یہ ہے کہ جو کام وہاں ہوں وہ قومی کی فائدہ کے بھی ہوں اور نیکی کے بھی ہوں۔جو کام نیک ہے اور قومی فائدہ کا ہے اُسے ذکر الہی کا