خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 174

1952 174 خطبات محمود ނ اسے مان لو گے؟ مکہ والوں نے کہا ہاں ہاں ہم نے تجھے کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے کی ہم تمہاری بات کو سچا تسلیم کریں گے۔1۔حالانکہ مکہ کی وادی ایسی ہے کہ درمیان میں گو بعض چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں لیکن اگر انہیں نظر انداز کر دیا جائے تو انسان کی نظر میلوں میل تک چلی جاتی ہے اور ساری چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جبل ابو تیس کے پیچھے کوئی لشکر ہو اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کو نظر نہ آسکے۔گویا آپ نے ایک ایسی بات کہی جو مکہ والوں کے لئے ناممکن التسلیم تھی۔لیکن ایک غیر ممکن التسلیم بات کے متعلق بھی انہوں نے کہہ دیا کہ ہم اُسے ضرور مانیں گے اس لئے کہ ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مکہ والو! میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف۔تمہیں ڈرانے کے لئے بھیجا گیا ہوں اور خدا تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے۔تب وہ فوراً بگڑ گئے اور کہا یہ شخص پاگل ہو گیا ہے۔2 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایسا تھا جس کو باوجود دشمنی کے جھوٹا نہیں کہا جاسکتا تھا۔اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔انسان انہیں روزانہ دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہے اور جو اس کے سامنے ایک ہی رنگ اور شکل میں آتی ہیں۔اس لئے یہ ناممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص ان کا انکار کر دے۔پھر کیسا ہی عجیب وہ انسان ہو گا جو ایسی باتوں کو باوجود ہر روز مشاہدہ کرنے کے رد کر دے۔مکہ والے باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ان کے رسم و رواج، طور و طریق اور روایات اور مذہب کے خلاف تھی آپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے۔اس لئے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کا بار بار تجربہ کیا تھا۔وہ اس کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے کہ آپ ایک راست باز انسان ہیں۔حالانکہ مکہ کے کافر وہ ازلی شقی تھے جن کے لئے عذاب الیم مقدر تھا۔جو جنگوں ، وباؤں اور بعض جنگی درندوں کا شکار ہو کر تباہ کئے گئے۔وہ بھی ایک دیکھی ہوئی چیز کا انکار کر نیکی طاقت نہیں رکھتے تھے۔پھر یہ ہو سکتا ہے کہ ایک مومن جس کو ہمیشہ سچائی کی تلقین کی جاتی ہے اور اُسے اُس پر عمل کرنے کی تاکید کی جاتی ہے ایک سچائی کو دیکھے اور اُسے نظر انداز کر دے؟ مجھے تعجب آتا ہے اُن احمدیوں پر جو روزانہ اپنی مخالفت تو دیکھتے ہیں ، وہ روزانہ اُن منصوبوں اور سازشوں کو دیکھتے ہیں جو احمدیت کے خلاف کی جاتی ہیں کی