خطبات محمود (جلد 33) — Page 170
1952 170 خطبات محمود سے پر ہیز کرتا ہے جو جائز چیزیں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ نا پاک اشیاء کھانے لگ جائے۔کی کیونکہ گندے الفاظ کا منہ سے نکالنا ، جھوٹ بولنا ، گالی گلوچ ، غیبت یہ سب نجاستیں ہیں۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ کوئی شخص کہے میں نے ساری چیزوں کے استعمال نہ کرنے کا عہد کیا ہے اور پھر گندی کی چیزیں کھانے لگ جائے؟ اور جب کوئی پوچھے تو کہے میں نے تو اچھی چیزوں سے پر ہیز کیا ہے بُری چیزوں سے نہیں ہر شخص یہ کہے گا کہ یہ جہالت ہے۔جب ایک شخص ایسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے جو مرغوب ہے ، پسندیدہ ہے، حلال ہے، طیب ہے ، خدا تعالیٰ کا عطیہ اور نعمت ہے تو جن چیزوں کی سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے انہیں وہ کیسے اختیار کرے گا۔غرض روزہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اُن تمام چیزوں کو چھوڑ دیں جو نا جائز اور نا پسندیدہ ہیں اور ایک ماہ کے عمل کے بعد اگر انسان چاہے تو اسے ایسی چیزوں سے پر ہیز کی عادت پڑ جاتی ہے۔کسی کو تمبا کو پینے کی عادت پڑ جائے تو وہ کہتا ہے میں تمبا کو چھوڑ نہیں سکتا۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشہ پانچ چھ دن تک چھوڑ دیا جائے تو وہ چھوٹ جاتا ہے۔مثلاً افیون ہے اگر کوئی شخص پانچ سات دن تک افیون کھانا ترک کر دے تو وہ اسے مستقل طور پر چھوڑ سکتا ہے۔شراب ہے اگر کوئی شخص پانچ چھ دن تک اسے چھوڑ دے تو وہ اسے مستقل طور پر چھوڑ سکتا ہے۔بھنگ ہے چرس ہے یا دوسرے نشے ہیں اگر ان کا استعمال سات آٹھ دن تک چھوڑ دیا جائے تو یہ مستقل طور پر چھوٹ جاتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ایک ماہ تک پر ہیز کرو۔اگر اس کے بعد بھی کوئی شخص ان نشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے تو یہ عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے ہوتا ہے۔مثلاً گالی دینے کی عادت ہے اگر ایک ماہ تک وہ اس سے پر ہیز کرتا ہے تو نتیجةً یہ عادت چھوٹ جائے گی۔اگر بھنگ پینا ، چرس پینا ، افیون کھانا ، شراب پینا، تمباکو پینا یہ سب عادتیں سات آٹھ دن تک چھوڑ دینے سے مستقل طور پر چھوٹ جاتی ہیں تو کون سی بد عادتیں ہیں جو ایک ماہ تک ترک کرنے کے بعد چھوٹ نہ جائیں۔ایک ماہ تک اگر نا پسندیدہ اور ناجائز چیزوں سے پر ہیز کیا جائے گا تو وہ یقیناً مستقل طور پر چھوٹ جائیں گی بشرطیکہ کوئی شخص بعد میں خودان میں مبتلا نہ ہو جائے۔اگر کوئی شخص فجر سے غروب آفتاب تک کھانا نہیں کھاتا، پانی نہیں پیتا لیکن چغلی کرنا، جھوٹ بولنا اور بدگوئی کرنا نہیں چھوڑ تا تو وہ یہ امید کیسے کر سکتا ہے کہ رمضان کے بعد وہ ان۔بچ جائے گا۔یہ چیز عقل کے خلاف ہے۔لیکن جو شخص رمضان کو سب شرائط کے ساتھ گزارے وہ