خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 164

1952 164 خطبات محمود روزے ان پر فرض بھی نہیں اور وہ رکھتے بھی نہیں۔یا مثلاً بیمار ہیں ان کی قوت مضمحل ہو چکی ہوتی ہے اور روزہ رکھنے سے خدا تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا ہے۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ان ایام سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بھی حاصل ہوتی ہے اور ان میں روزہ رکھنے کی طاقت بھی ہوتی ہے اور ماحول بھی ایسا ہوتا ہے جو انہیں روزہ رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے اس کی فضل اور احسان سے کہ جو بیمار ہیں وہ روزہ نہ رکھیں وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور بیمار بن جاتے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ تم سوئے ہوئے کو تو جگا سکتے ہو لیکن جو مچلا بنتا ہے اور وہ جاگنا نہیں کی چاہتا اسے نہیں جگا سکتے۔اس لئے کہ سوئے ہوئے شخص کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص اسے جگا رہا ہے اس لئے جو نہی تم اسے ہاتھ لگاؤ گے وہ جاگ اٹھے گا۔لیکن جو جان بوجھ کر سویا ہوا بنتا ہے اسے علم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اسے جگا رہا ہے اس لئے وہ نہیں جاگے گا۔اسی طرح جو لوگ بیمار بنتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے اس فضل اور احسان سے جو بیماروں پر ہے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں صحت دی ہوتی ہے، ایمان دیا ہوتا ہے وہ رمضان کی قدر و وقعت کو سمجھتے ہیں پھر وہ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ایک مہینے کے برابر لمبی سرنگ آجاتی ہے جس میں سے گزرتے ہوئے وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنی وہ کی دعا ئیں منواتے ہیں جن کو قبول کروانے کی صورت پہلے نظر نہیں آتی تھی۔یہ لوگ جب رمضان منی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی حالت اور ہوتی ہے اور جب رمضان سے نکلتے ہیں تو ان کی حالت اور ہوتی ہے۔بعض دفعہ وہ رمضان کے مہینے میں ننگے داخل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کی ج ہوئی خلعتوں سے لدے ہوئے نکلتے ہیں۔بعض دفعہ وہ روحانی بیماریوں سے مضمحل اور خمیدہ کمر کے ساتھ رمضان میں داخل ہوتے ہیں لیکن چست و چالاک اور تندرست شخص کی شکل میں نکلتے ہیں۔کئی لوگ روحانی طور پر اندھے ہوتے ہیں لیکن سجا کھے ، دیکھنے والے اور تیز نظر والے نکلتے ہیں۔کئی لوگ دل کے جذامی اس مہینہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن جب یہ مہینہ ختم ہوتا ہے تو ان کے چہروں پر خوبصورتی ، رعنائی اور شادابی کا منظر ہوتا ہے جسے ہر شخص دیکھتا ہے اور واہ واہ کرتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی رحمتوں اور فضلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور