خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 143

1952 143 خطبات محمود ނ نہ ملے تو کچھ بھی نہیں دینا پڑے گا۔اسی طرح اگر مزدور کو ڈیڑھ روپیہ ملے گا تو اُس پر اڑھائی آنے کی مسجد کا چندہ لگ جائے گا۔غرض یہ ایک اس قسم کا پُر لطف کام ہے کہ بجائے طبیعت پر بوجھ ہونے کے انسان کو اس میں لطف آتا ہے اور طبائع میں انشراح قائم رہتا ہے۔کیونکہ یہ طریق ایسا ہے جس میں چندہ کی کوئی مقدار معین نہیں اور پھر خدا تعالیٰ کے شکر کا بھی موقع نکلتا رہتا ہے۔اب تو تاجر سا را دن بیٹھا رہتا ہے اور اُس کے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف کوئی توجہ ہی پیدا نہیں ہوتی لیکن مہینہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کے لئے وہ ضرور سوچے گا کہ دیکھوں آج مجھے کیا ملتا ہے اور میں خدا تعالیٰ۔کتنا ثواب حاصل کرتا ہوں۔اس طرح قدم بقدم خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا چلا جائے گا۔پھر مسجد میں ایسی چیز ہیں کہ اُن کا قیام قوم کے لئے بڑی برکت کا موجب ہوتا ہے۔دیکھو وصیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف طور پر لکھا ہے کہ بہشتی مقبرہ کی زمین کسی کو بہشتی نہیں بناتی بلکہ انسان کے اعمال اُسے بہشتی بناتے ہیں 1 لیکن ہماری جماعت میں صرف اسی نام کی وجہ سے کہ اُسے بہشتی مقبرہ کہا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے خاص فضلوں کے وعدے اُس کے ساتھ وابستہ ہیں اب وصیت کی آمدن زیادہ ہے اور دوسرے چندوں کی آمد کم ہے کیونکہ اس کے ساتھ معین صورت میں نام آ گیا ہے کہ اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا وعدہ ہے۔وصیت کی طرح مسجد بنانے والے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا وعدہ ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ جو شخص میرے لئے مسجد بناتا ہے میں اُس کے لئے آخرت میں گھر بناتا ہوں 2۔گویا یہ بھی ایک کی وصیت جیسی تحریک ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ اس کے ساتھ موجود ہے کہ جو شخص مسجد بنائے گا اُس کے لئے خدا جنت میں گھر بنائے گا۔اور پھر وہی وصیت والی شرط یہاں بھی پائی جاتی ہے کہ قربانی کرنے والا نیک ہو۔اگر کوئی کنچنی مسجد بنا دے تو ہم کہیں گے کہ اُس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ مزاح کیا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص نماز ہی نہیں پڑھتا اور روزے نہیں رکھتا ، سچ نہیں بولتا ، جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے، دوسروں پر ظلم کرتا ہے، اُن کے حقوق ادا نہیں کرتا تو اُس کا مسجد کے لئے چندہ دینا اُسے جنت میں نہیں لے جاسکتا۔لیکن اگر کوئی شخص نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، سچ بولتا ہے، جھوٹ ، ظلم اور فریب سے بچتا ہے، دین سے محبت رکھتا ہے،