خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 140

1952 140 خطبات محمود فرض کرو کسی کے پاس ایک مربع یعنی 25 ایکڑ زمین ہے۔آٹھ ایکڑ وہ کپاس کرتا ہے۔فرض کی کرو اس کی آٹھ من فی ایکڑ پیداوار ہوتی ہے تو گویا چونسٹھ من کپاس اس کے پاس آگئی۔تمیں روپے بھی اگر قیمت رکھو تو یہ دو ہزار ہو گئے۔دو ہزار کا دو سواں حصہ دس روپے بنتا ہے۔پھر گندم آتی ہے، کماد آتا ہے ان کی مجموعی آمدن بھی قریباً قریباً کپاس کے برابر ہو جاتی ہے۔نہ ہو تو پندرہ سو کے قریب تو ضرور آسکتا ہے۔گویا مجموعی طور پر اسے پینتیس سو روپیہ ملا۔جس کے معنی یہ کی ہیں کہ فی مربع اسے پندرہ روپے دینے پڑے اور یہ رقم دوسرے لوگوں سے بہت زیادہ بن جاتی ہے۔پس میں نے تجویز کیا ہے کہ وہ آئندہ فی ایکڑ دو آنہ دے دیا کریں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک مربع والے کو تین روپے دو آنے دینے پڑیں گے۔یوں عام آمدن کے لحاظ سے اسے پندرہ روپے دینے پڑتے تھے۔اور جن کی زیادہ آمد نہیں ہیں انہیں چھپیں چھیں دینے پڑتے تھے۔مگر اب دو آنہ فی ایکڑ کے حساب سے سال بھر میں انہیں صرف تین روپے دو آنے دینے پڑیں گے۔لیکن جو مزارع کے طور پر کام کرتے ہیں چونکہ نصف مالک کو دیتے ہیں ان کے لئے ایک آنہ اور ی دو پیسے فی ایکٹر کی شرح ہو گی۔دس سے اوپر ایکڑ جس کے پاس مزارعت کے ہوں اُس پر ایک آنہ فی ایکڑ۔اور دس یا اس سے کم جس کے پاس مزارعت کے ہوں اُس پر فی ایکڑ دو پیسے چندہ مسجد واجب ہوگا۔پہلے طریق کے مطابق زمینداروں کے لئے اپنی آمدنیوں کا حساب کرنا مشکل تھا۔لیکن دو آنہ یا آنہ فی ایکڑ کے لحاظ سے ان کے لئے حساب کی مشکل اڑ جاتی ہے۔فرض کرو کسی کے پاس تین ایکڑ ہیں ایک ایکٹر گندم کرتا ہے اور ایک ایکڑ کپاس کرتا ہے یا کپاس نہیں کرتا تچ تو سبزی ترکاری ہوتا ہے تو اس کی آمدن بھی چھ سات سو بن جاتی ہے گو اس میں بیلوں کے بھی اخراجات ہیں اس طرح اُس کے دوسرے اخراجات بھی اس میں شامل ہیں۔بہر حال نہری زمینوں کے لحاظ سے اس کی رقم کوئی تین چار روپے بنتی تھی جو اسے مسجد کے لئے دینی چاہیے تھی لیکن اس حساب سے اس کی رقم صرف تین آنے بنے گی۔کیونکہ دس ایکڑ سے کم کے مالک پر ایک آنہ فی ایکڑ واجب کیا گیا ہے اور تین آنے اور تین روپے میں بڑا بھاری فرق ہے۔پس اس تحریک کے ساتھ ہی میں زمینداروں کے پہلے چندہ میں تبدیلی کا بھی اعلان کرتا ہوں۔مجلس شوری میں سواں حصہ مقرر کیا گیا تھا بعد میں جب یہ سکیم شائع ہوئی تو دوسواں حصہ کر دیا گیا تھا۔