خطبات محمود (جلد 33) — Page 126
1952 126 خطبات محمود طاقت ان کے سامنے تھی۔صرف چند ڈاکوؤں کی لوٹ مار اور ان کی غارت گری کے واقعات ان کے سامنے تھے۔اور چونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان کو دور کیا اس لئے ان کی نگاہ میں مہا راجہ کی رنجیت سنگھ بہت بڑا بادشاہ تھا۔لیکن بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا مطمح نظر اس چوہڑے سے بہت اونچا تھا۔اور ان سے یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا صحیح نظر بہت اونچا تھا۔وہ اس سے زیادہ سوچتے تھے جتنا لا ہور والے سوچتے تھے۔اور وہ اس سے زیادہ دنیا کی مشکلات کی کا علم رکھتے تھے جتنی مشکلات کا لا ہور والوں کو علم تھا۔پھر بھی وہ ان مسائل کو اس طرح نہیں سوچ کی سکتے تھے جس طرح اس زمانہ میں یورپ اور امریکہ کے لوگ سوچ رہے ہیں۔اس زمانہ میں جس قسم کی تو ہیں نکلی ہیں ، جس قسم کے ہوائی جہاز نکلے ہیں، جس قسم کے ہتھیار نکلے ہیں، جس قسم کا ایٹم بم ایجاد ہوا ہے ان ایجادات اور ہتھیاروں کی پہلے لوگوں کو کہاں خبر تھی۔وہ سو چتے تھے تو اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق۔اور اس زمانہ کے لوگ سوچتے ہیں تو اپنے حالات کے مطابق۔اگر اس کی زمانہ کی ترقیات کا پہلے زمانہ کے لوگوں کے سامنے ذکر کیا جاتا تو وہ ان باتوں کو ویسا ہی لغو سمجھتے جیسے اگر اُس چوہڑے کے سامنے چھ کارتوس والی رائفل کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔میں ایسی لغو بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔غرض ہر ترقی مختلف تدریجی منازل کو طے کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ورنہ انسان اپنا کی حوصلہ قطعی طور پر ہار بیٹھے اور وہ کسی ترقی کو بھی حاصل نہ کر سکے۔اس چوہڑے کے لئے یہی ضروری تھا کہ وہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد حکومت کو دیکھتا لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سامنے دتی کے بادشاہ رہتے تھے اور دلی کے بادشاہوں کے سامنے وہ حکمران رہتے تھے جنہوں نے ان سے بھی زیادہ شاندار حکومت کی۔اسی طرح پر ایک شخص سیکھتا چلا گیا اور چونکہ قدم بقدم ایک کے بعد دوسری چوٹی آئی اس لئے ہر ایک نے سمجھا کہ اس چوٹی کو سر کیا جا سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتاتی إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَةٍ لِأُولى الْأَلْبَابِ۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ کس طرح پستی کے بعد بلندی اور ہر بلندی کے بعد اور بلندی آجاتی ہے۔پستی کے نیچے اور پستی پائی جاتی ہے اور بلندی کے اوپر اور بلندی موجود ہے۔تم گرتے ہو تو تمہیں پتا بھی نہیں لگتا کہ تم کہاں آ کر گرے ہو۔اگر وہی حالت جو آج مسلمانوں کی ج