خطبات محمود (جلد 33) — Page 107
1952 107 خطبات محمود پھر اور کالج اور سکول قائم کئے جائیں۔یہاں تک کہ ہماری جماعت کے نوجوان جو اپنے کالجوں کے اور سکولوں میں تربیت حاصل کر چکے ہوں اُن میں ایک نیا ایمان اور نئی قوت اور نئی تازگی پیدا ہو جائے۔ورنہ صرف درسی کتب کی تعلیم کے لئے نہ ہمیں سکولوں کی ضرورت ہے نہ کالج کی۔دنیا کی میں سینکڑوں سکول اور کالج موجود ہیں اُن میں ہماری جماعت کے طلباء بھی پڑھ سکتے ہیں اور ہمیں کوئی ضرورت نہیں رہتی کہ ہم ان اداروں پر ہزاروں روپیہ سالانہ خرچ کریں۔پس آج میں اپنے تعلیمی اداروں اور مرکزی محکمہ تعلیم کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے پروگرام کو ایسی طرز پر بنائیں کہ ان کے سکولوں کا باقی جماعت کو فائدہ ہو اور ان کے سکولوں سے نکلے ہوئے لڑکے دوسرے لوگوں کی قربانی سے پندرہ ہیں گنے زیادہ قربانی کرنے والے ہوں۔اگر نظارت تعلیم ایسی لسٹ پیش کرے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ان کے سکولوں۔فارغ ہونے والے نوجوان پہلوں سے زیادہ ترقی یافتہ ، پہلوں سے زیادہ ہمت والے ، پہلوں سے زیادہ بلند حوصلوں والے، پہلوں سے زیادہ قربانی اور ایثار سے کام لینے والے اور پہلوں سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے والے ہیں تو پھر بے شک یہ امر ہماری خوشی کا موجب ہو سکتا کی ہے۔لیکن اگر وہ ایسا نہ دکھا سکیں تو پھر جماعت پچاس ہزار سکول پر اور ایک لاکھ کالج پر کیوں خرچ کرے۔کیوں نہ یہ روپیہ تبلیغ پر ہی صرف کیا جائے تاکہ نئے آنے والے نیا جوش اور نیا خون کی لے کر آئیں اور اُن کے اندر قربانی کا وہ جذبہ ہو جو نو مسلموں کے اندر پایا جاتا ہے۔جب تک ہمارے سکولوں اور کالجوں سے نکلنے والے نو مسلموں والا اخلاص اپنے اندر نہیں رکھتے اُس وقت تک وہ محض بریکار ہیں۔اگر انہوں نے پیدائشی احمد یوں والا رنگ ہی رکھنا ہے تو پھر ضرورت کیا ج ہے کہ ان کے لئے اتنا روپیہ خرچ کیا جائے۔پس ان کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔بہت سا طالب علم ان کے قبضہ میں ہوتا ہے اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے ان میں نمازوں کی عادت پیدا کر سکتے ہیں ، انہیں محنت کا عادی بنا سکتے ہیں، ان میں دیانت اور امانت پیدا کر سکتے ؟ ہیں اور انہیں سچائی کا عادی بنا سکتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ سکول کے طلباء سے پوچھا کہ بتاؤ تم میں سچ بولنے والے کتنے ہیں؟ تو اس کی پر بہت کم نو جوانوں کی تعدا د نکلی جنہوں نے اقرار کیا کہ وہ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔پھر میں نے پوچھا کی کہ تم میں سے جو بیچ نہیں بولتے کیا تم اُن کا معاملہ بھی سلسلہ کے نوٹس میں بھی لائے ہو یا نہیں؟