خطبات محمود (جلد 33) — Page 88
1952 88 خطبات محمود گندم ہیں رو پے من ہو تو تم گندم کی قلت سے فائدہ اٹھا کر گاہک کو چھپیں روپے فی من دو۔یہ کی چیز بہت بُری ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔غرض یہاں جماعت ہر دکاندار کو تنخواہ دے رہی ہے۔بلکہ صرف ربوہ میں ہی نہیں جہاں کی بھی کوئی جماعت منظم ہوتی ہے وہ وہاں رہنے والوں کو تنخواہ دیتی ہے۔لیکن اس تنخواہ کی شکل اور ہوتی ہے۔یہ تنخواہ گاہک کی شکل میں ملتی ہے، یہ تنخواہ حفاظت کی شکل میں ملتی ہے، یہ تنخواہ مصیبت کی کے وقت میں امداد کی شکل میں ملتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ربوہ کے کسی دکاندار کو پچاس ساٹھ وپے ماہوار تنخواہ نہیں ملتی۔لیکن جو کچھ وہ کماتا ہے اس میں سے 75 فیصدی اسے سلسلہ دیتا ہے۔اگر وہ جنگل میں چلا جاتا تو کیا وہ روپیہ کما سکتا تھا ؟ اگر لوگ یہاں آکر نہ بستے تو کیا وہ اچ روپیہ کما سکتا تھا؟ اگر سلسلہ کے ادارے یہاں نہ ہوتے تو کیا وہ روپیہ کما سکتا تھا؟ اگر ان کے جی اردگر و سلسلہ کے افراد نہ رہتے تو کیا ان کی مال و دولت محفوظ رہ سکتی تھی ؟ پس جو کچھ وہ کماتا ہے کی اس میں کم از کم 3/4 حصہ جماعت کا ہوتا ہے۔اسے یہاں حفاظت کے لئے جتھا مل جاتا ہے، اسے گا ہک مل جاتے ہیں۔شہروں کے تاجر تو بڑے اکڑے پھرتے ہیں، اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھاتے ہیں، ان کے پاس کئی کاریں ہوتی ہیں، عمدہ لباس پہنتے ہیں۔اور غرباء کو دیکھو کہ وہ منہ کی چڑاتے ہیں۔لیکن اگر شہر کے غرباء ان کے پڑوس میں نہ ہوتے تو وہ اتنار و پریہ کبھی نہیں کما سکتے ؟ تھے۔اگر ان کے ہمسائے نہ ہوتے تو ان کی دولت محفوظ نہ ہوتی بلکہ ڈاکو اسے لوٹ لیتے۔اس لئے اگر چہ غریبوں نے انہیں کچھ نہیں دیا لیکن پھر بھی دیا ہے۔انہوں نے اس کا مال سنبھال کر رکھا ہے۔پس امداد کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ کسی کو پچاس یا ساٹھ روپے ملیں۔اگر محلہ والے نہ ہوں تو کیا کوئی مالدار شخص محفوظ رہ سکتا ہے؟ ان کے اردگرد جو سو یا دوسوغر باء رہتے ہیں ان کی وجہ سے ڈاکو ڈا کہ نہیں ڈالتے۔گویا غرباء اسے حفاظت کے ذریعہ تنخواہ دیتے ہیں۔اگر غرباء نہ کی ہوتے اور وہ ایک جنگل میں ڈیرا ڈال لیتا تو اپنے مال کی حفاظت کے لئے اسے شاید دس پندرہ مچ پہریدار رکھنے پڑتے۔اب اُسے ایک پہریدار بھی کافی ہو جاتا ہے۔اگر وہ چار پہریدار بھی کی ملازم رکھتا اور ان میں سے ہر ایک کو 35 روپے ماہوار دیتا تو اسے ایک سو چالیس روپے خرچ کی کرنے پڑتے۔پس یہ بات غلط ہے بلکہ ایمانداری کے خلاف ہے کہ کوئی کہے کہ ہمیں سلسلہ تنخواہ بھی