خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 64

1952ء 64 خطبات محمود انہوں نے مجھے خود بتایا کہ میں شروع میں بہانہ بنا دیا کرتا تھا کہ میں تو کافر ہوں اور کافر کی گواہی کا اعتبار ہی کیا ۔ لیکن وہ کہتے کہ تم کا فر تو ہو لیکن تم سچ بولتے ہو۔ اس کا اتنا اثر ہوا کہ سارا علاقہ یہ کہنے لگ گیا کہ احمدی کا فر ہوتے ہیں لیکن سچ بولتے ہیں ۔ اور اس سے زیادہ مزیدار اور کیا چیز ہوگی کہ کوئی کہے تم کافر ہولیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق ہو ۔ تم کافر ہو لیکن خدا تعالیٰ کے سچے عاشق ہو۔ تم کافر ہو لیکن دین کے سچے خادم ہو۔ اور بڑھتے بڑھتے یہ چیز اس حد تک چلی جائے گی کہ دشمن کی اولاد کہے گی یہ کافر کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ تو خدا اور اس کے رسول کے سچے عاشق ہیں ۔ ان کے ماں باپ بے شک تمہیں کافر کہتے جائیں لیکن جب تم اپنا نمونہ پیش کرو گے تو ان میں سے ہر ایک یہ ماننے لگ جائے گا کہ تم کچھ اور بن گئے ہو ۔ پس تم اپنے اندر سچائی پیدا کرو پھر باقی خوبیاں تم میں آسانی سے پیدا ہو جائیں گی ۔ الفضل 9 اگست 1961 ء ) 1 : اسد الغابة جلد 3 صفحہ 221۔ مطبوعہ ریاض 1286ھ 2 : آل عمران : 145 - بخاری کتاب المغازى باب مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ وَفَاتِهِ 3: آل عمران : 145 4: تفسیر کبیر ال رامام رازی، سورہ التو به 119 : ( يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّدِقِينَ 5: تربية الاولاد فى الاسلام، الجزء الاول صفحہ 175 بیروت 1981ء