خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 63

1952ء 63 خطبات محمود کر سکتا ۔ اتفاقاً کوئی عیسائی نیک بن جائے تو یہ اور بات ہے ورنہ موجودہ عیسائیت کسی کو نیک نہیں بناتی ۔ کیونکہ وہ کہتی ہے کہ بدی ایک فطرتی چیز ہے۔ اور جو شخص فطرتاً گندا ہے وہ نیک کس طرح بن سکتا ہے ۔ ہاں جس عیسائی نے اپنے مذہب پر غور نہ کیا ہو اور اُس کی غیرت سلامت ہو تو ہے۔ نہ وہ باوجود عیسائیت کے نیک ہو جائے گا ۔ لیکن اُس کا نیک ہونا بوجہ عیسائیت کے نہیں ہوگا ۔ پس تم سچائی کو اختیار کرو۔ تمہارے اندر اگر کوئی افسر ہے اور اس نے واقع میں اگر کسی سے کچھ وعدہ کیا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں نے فلاں سے یہ وعدہ کیا تھا۔ سے یہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے سارے ماتحت یہ کہیں گے کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔ اگر اس سے غلطی ہو گئی ہے تو کیا بات ہے۔ لیکن جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو ماتحت کہتا ہے کہ میں اسے ذلیل کر کے چھوڑوں گا۔ اسی طرح ہزار ہا اور دوسرے کا رکن بھی سچائی کو معیار قرار دے لیں تو اس کا اتنا اثر ہوگا کہ ہزار ہا لوگ صداقت کی طرف مائل ہو جائیں گے ۔ - میں نے بارہا سنایا ہے کہ جھنگ کے ایک دوست مغلہ نامی احمدی ہو گئے ۔ اتفاق سے وہ ربوہ کے قریب کے علاقہ کے ہی ہیں ۔ جب وہ احمدی ہوئے تو انہیں بتایا گیا کہ ہمیشہ سچ بولا کرو۔ اس پر انہوں نے جھوٹ بولنا ترک کر دیا۔ ان کی قوم چور تھی اور دشمن کے جانور پر الینا فخر کی بات سمجھتی تھی ۔ مغلہ کے بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو جب یہ پتا لگا کہ وہ احمدی ہو گیا ہے تو انہوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کر دیا اور کہا کہ تم کافر ہو گئے ہو اور ادھر لوگوں کو یہ پتا لگا کہ مغلہ سچ بولنے لگ گیا ہے ۔ جب اُس کے بھائی کسی کے جانور چرا کر لاتے اور لوگ اکٹھے ہو جاتے تو وہ کہتے ہم قرآن اٹھا لیتے ہیں کہ ہم نے تمہارا مال نہیں پھرایا۔ لیکن وہ کہتے تمہاری قسم پر ہمیں اعتبار نہیں ۔ مغلہ اگر کہہ دے کہ تم نے ہمارا مال نہیں پھر ایا تو ہم مان لیں گے ۔ تیم تو ہم پھر تو ہم بھینسیں گھر میں آئی ہوئی ہوتی تھیں۔ وہ مغلے کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں ۔ جب اُن سے گواہی لی جاتی تو وہ کہہ دیتے کیا تم بھینسیں چرا کر نہیں لائے؟ بعض اوقات اُن کے بھائی انہیں مارتے اور اتنا مارتے کہ انہیں یقین ہو جاتا کہ اب مغلہ ان کے حق میں گواہی دے دے گا۔ چنانچہ وہ اُسے باہر لاتے اور کہتے کیوں مغلے کیا ہم نے ان کی بھینسیں چراتی ہیں؟ وہ کہہ دیتے کہ جب تم نے بھینسیں چرائی ہیں تو میں کس طرح کہوں کہ تم نے بھینسیں نہیں چرائیں۔