خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 62

1952 62 خطبات محمود وہ خوب سمجھتا ہے کہ وہ چیز اُس کی نہیں۔لیکن چونکہ بچپن میں اُس نے یہ گر سیکھ لیا ہوتا ہے کہ جھوٹ کی سے عارضی فائدہ ہو جاتا ہے اس لئے وہ جھوٹ بول دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں بالکل اُسی طرح کی کہہ رہا ہوں جس طرح میری ماں کہیں باہر گئی ہوتی تھی اور بہن بھائی میرا دل بہلانے کے لئے کہہ دیتے تھے کہ وہ اماں آگئی۔اگر ماں باپ کوئی چیز میرے لئے مضر سمجھتے تھے تو اُسے چھپالیتے تھے لیکن مجھے پچپ کرانے کے لئے کہہ دیتے تھے کہ وہ چیز ختم ہو گئی ہے۔پھر محبت ہے۔محبت کا جذ بہ بھی جب جوش میں آتا ہے تو انسان بعض اوقات جھوٹ بول جاتا ہے۔اسی طرح خوف ہے۔خوف کی وجہ سے بھی انسان بعض اوقات سچائی کو ترک کر دیتا ہے اور جھوٹ بول دیتا ہے۔اگر جھوٹ کو نکال دیا جائے تو دنیا اتنی خوبصورت بن جاتی ہے کہ اس کی حد نہیں رہتی۔میں جب دورہ پر آتا ہوں تو لوگ کئی تنازعات میرے پاس لے آتے ہیں۔میں انہیں کہتا ہوں کہ یہ تنازعات انجمن میں لے جاؤ۔لیکن پھر بھی وہ رقعے دیتے جاتے ہیں اور فریقین میں سے ایک کی فریق ضرور جانتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے فلاں نے میرے اتنے روپے دینے ہیں لیکن وہ دیتا نہیں۔تو یہ ایسی بات نہیں کہ اس کے لئے اجتہاد میں غلطی ہوگئی ہو۔یا تو مدعی جھوٹ بول رہا ہوتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے اتنے روپے دینے ہیں حالانکہ اس نے روپے دینے نہیں ہوتے اور یا پھر مد عاعلیہ نے روپے دینے ہوتے ہیں لیکن وہ جھوٹ بول دیتا ہے کہ میں نے اس کے روپے نہیں دینے۔بہر حال دونوں میں سے ایک فریق ضرور جھوٹا ہوتا ہے۔اگر لوگ سچائی سے کام لیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جائیں۔یورپ میں ڈپلومیسی (DIPLOMACY) کے باوجود سچائی کا وصف پایا جاتا ہے۔سو میں سے پندرہ آدمی ایسے ہوں گے جو جھوٹ بولیں گے۔باقی عدالت میں صاف طور پر کہہ دیں گے کہ مدعی کا بیان سچا ہے اور جج فیصلہ کر دے گا۔لیکن سچائی کو ترک کر دینے سے معاملہ پیچیدہ ہوتا جائے گا۔پھر جس کے خلاف جھوٹ بولا جاتا ہے اس کے دل میں بدظنی پیدا ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ سب لوگ بُرے ہیں۔قصور ایک شخص نے کیا ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ سارے لوگ ہی ایسے ہیں۔اور جو شخص یہ سمجھے گا کہ ساری دنیا گندی ہے وہ خود بھی گندا ہو جائے گا۔عیسائیت کو دیکھ لو۔عیسائیت کہتی ہے بدی ایک فطری چیز ہے۔اس لئے کوئی عیسائی نیک بننے کی کوشش نہیں کی