خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 46

1952ء 46 7 خطبات محمود ہمیشہ اپنے کاموں میں محبت اور عقل کا توازن قائم رکھو (فرمودہ 7 مارچ 1952ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : وو دنیا میں عقل اور محبت کے دو نتیجے ہوا کرتے ہیں۔ عقل یہ کہتی ہے کہ جس رنگ میں کوئی سچائی پائی جائے اُسی طرح اُس کو مانا جائے ۔ اور محبت یہ کہتی ہے کہ جس حد تک ہو سکے جس سے پیار ہو اُس کی طرف عیب منسوب نہ ہونے دیا جائے ۔ یہ دونوں چیزیں مل کر دنیا میں امن پیدا کرتی ہیں اور انسان کے لئے ترقی کے رستے کھولتی ہیں ۔ اگر خالی عقل پر ہی بنیاد رکھی جائے اور محبت اور ہمدردی کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر انسان شبہ اور وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خواہ مخواہ چلتے پھرتے دوسرے پر بدظنی کرتا رہتا ہے۔ مثلاً وہ کھانا کھائے گا تو اسے یہ وہم ہوگا کہ شاید اس میں کسی نے زہر ملا دیا ہو۔ وہ کسی کے ساتھ جا رہا ہو گا تو خیال کرے گا کہ کہیں اس کا ساتھی اس کی پیٹھ میں خنجر نہ مار دے ۔ وہ سودا خریدے گا تو اسے یقین ہوگا کہ دکاندار نے اس کے ساتھ ٹھگی کی دکاندار نے ہے اور جب یہ بات بڑھتے بڑھتے انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو انسان جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ بڑھتے کو ہے تو قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص سے کسی نے کہہ دیا درزی چور ہوتے ہیں اور یہ بات ٹھیک بھی ہے کہ یہ پیشہ ہی ایسا ہے کہ اس میں بعض کترنوں کا ضائع ہو جانا ممکن ہے ۔ اور گرہ گرہ دو دو گرہ کی جو کتر نیں بچ جاتی ہیں بعض لالچی درزی انہیں جوڑ کر ٹوپی یا کوئی اور معمولی چیز بنا لیتے ہیں اور اس طرح پیسے کما لیتے ہیں۔ لیکن اس بات کو اتنا وسیع کر لینا کہ کوئی درزی بھی ایماندار نہیں ہوتا