خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 40

1952ء 40 خطبات محمود اور کہیں بارہ فیصدی ہیں۔ سندھ میں 80 فیصدی کے قریب مسلمان آباد تھے اور پنجاب میں 52 فیصدی مسلمان تھے ۔ اگر انہوں نے اتنی زیادہ تعداد میں اسلام قبول کر لیا تھا تو اس کے معنی ہیں کہ ان اتنی میں دینی رغبت پائی جاتی ہے۔ اگر انہوں نے اب تک احمدیت قبول نہیں کی تو یہ ہماری سستی ہے۔ ہمارے لوگ یہاں آئے ، خدا تعالیٰ نے انہیں کھانے پینے اور پہننے میں سہولت دے دی لیکن جوں جوں خدا تعالیٰ انہیں خوراک اور لباس میں سہولت دیتا چلا گیا وہ خدا تعالیٰ کو بھولتے کہ چلے گئے ۔ حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے ان پر جتنا زیادہ احسان کیا تھا اتنا زیادہ وہ اُسے ۔ یاد کرتے ۔ احسان کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی یاد زیادہ ہونی چاہیے ۔ مثنوی رومی میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ محمود غزنوی نے ایک غلام لڑکا خریدا جس کا نام ایاز تھا یا محمود نے اس کا نام ایاز رکھ دیا ۔ بچہ ذہین تھا ۔ جب وہ جوان ہوا تو محمود نے اُس کی ذہانت کی وجہ سے اسے فوج میں ایک عہدہ دے دیا اور آہستہ آہستہ اسے ترقی دیتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ محمود نے اسے خزانہ کا افسر مقرر کر دیا۔ درباریوں نے شکایت کی کہ بادشاہ سلامت ! ہم کئی پشتوں سے آپ کے خاندان کے نمک خوار چلے آتے ہیں لیکن آپ ہمارے مقابلہ میں اس غلام کی قدر زیادہ کرتے ہیں ۔ بھلا ہمارا اور اس کا مقابلہ ہو سکتا ہے؟ ہم اپنی وفاداری میں دیانتدار ہیں لیکن یہ غلام غیر ملکی ہے آپ نے اسے خزانہ کا افسر مقرر کر دیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی دن ملک سے غداری کر کے کوئی فتنہ کھڑا کر دے ۔ یہ روزانہ رات کو خزانہ میں جاتا ہے ۔ اگر اس کی نیت نیک ہوتی اور اس کی وفاداری مشتبہ نہ ہوتی تو یہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ خزانہ میں روزانہ رات کو جانے کے معنی ہی کیا ہیں ۔ جب ایک کے بعد دوسرے، دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے درباری نے یہ شکایت کی اور دربار میں اس بات کا چرچا ہو گیا تو بادشاہ کے دل میں بھی شبہ پیدا ہوا ۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے اس کے کہ میں ایاز کے خلاف کوئی فیصلہ کروں میں خود جا کر دیکھ لوں کہ وہ رات کو خزانہ میں جا کر کیا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ ایک دن خزانہ کی طرف گیا اور اس میں چھپ گیا اور چابی بردار کو ڈانٹا اور اسے تاکید کی کہ وہ ایاز کو اس کی موجودگی کا علم نہ ہونے دے۔ ایاز بارہ بجے کے قریب آیا اور بادشاہ کا شبہ بڑھ گیا۔ لیکن اس نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک وہ ساری واردات نہ دیکھ لے ایاز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ اس نے