خطبات محمود (جلد 33) — Page 37
1952 37 خطبات محمود شاید ایک تاجر جب خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر کہہ دے کہ مجھے تو یہ خیال ہی نہیں آیا کہ تبلیغ کی جائے اور جماعت کو بڑھایا جائے۔ممکن ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ایک بڑھئی، لوہار، یا کمہار کو پکڑے تو وہ کہے۔اے خدا! میرے تو ذہن میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ تبلیغ ضروری چیز ہے۔لیکن جب ایک زمیندار کو پکڑا جائے گا تو وہ خدا تعالیٰ کو کیا جواب دے گا۔اس کے تو دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے ، نیچے اور اوپر خدا تعالیٰ کا یہ قانون جاری تھا کہ ہر طاقت والی چیز بڑھتی ہے۔اگر کی خدا تعالیٰ کا یہ قانون جاری نہ ہوتا تو وہ کمائی کیسے کر سکتا۔اگر ہر چیز آپ ہی آپ نہ بڑھتی چلی جاتی تو وہ روٹی کہاں سے کھاتا۔اگر خدا تعالیٰ کا یہ قانون جاری نہ ہوتا کہ ایک بنولہ سے سو بنولہ ہو جاتا ہے اور روئی مفت کی آجاتی ہے تو وہ اپنا خرچ کہاں سے چلاتا۔خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنادیا ہے کہ کچی زندگی کی علامت یہ ہے کہ وہ بڑھے۔ایک زمیندار دیکھتا ہے کہ ہر چیز جو وہ لیتا ہے بڑھتی ہے۔اس نے بکریاں رکھی ہوئی ہیں وہ بھی بڑھتی ہیں۔اس نے بھینسیں رکھی ہوئی ہیں جی وہ بھی بڑھتی ہیں۔اس نے مرغیاں پالی ہوتی ہیں وہ بھی بڑھتی ہیں۔باقی لوگوں کے سامنے تو کی اپنے اور بیوی بچوں کے بڑھنے کا نظارہ ہوتا ہے۔لیکن زمیندار کی ہر چیز بڑھ رہی ہوتی ہے۔اُس کا ماش کا دانہ بھی بڑھ رہا ہوتا ہے۔اس کا چنے کا دانہ بھی بڑھ رہا ہوتا ہے۔اس کا بنولہ بھی بڑھ رہا ہوتا ہے۔اس کی بھینسیں بھی بڑھ رہی ہوتی ہیں۔اس کی گائے اور بکریاں بھی بڑھ رہی ہوتی ہیں۔گو یا خدا تعالیٰ کا قانون کہ بڑھو بڑھو جتنا ایک زمیندار کے سامنے آتا ہے اور کسی پیشہ ور کے سامنے نہیں آتا۔ایک لوہار کے سامنے اکثر یہ قانونِ قدرت نہیں آتا۔ایک ترکھان کے سامنے اکثر یہ قانون قدرت نہیں آتا۔ایک تاجر کے سامنے اکثر یہ قانونِ قدرت نہیں آتا۔لیکن یہاں کی چاروں طرف یہ قانون جاری ہے کہ ہر چیز بڑھ رہی ہوتی ہے۔اس قانون کو دیکھ کر ہر زمیندار کا فرض ہے کہ جہاں وہ جسمانی طور پر بڑھے وہاں وہ روحانی طور پر بھی بڑھے۔جو شخص احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ اقرار کرتا ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس کے یہی معنی ہیں کہ اگر میں دنیا میں بڑھوں گا تو دین میں بھی بڑھوں گا۔اگر میری گندم بڑھے گی ، اگر میری سرسوں بڑھے گی یا چنے بڑھیں گے تو میرے روحانی بھائی بھی بڑھیں گے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس چیز کا احساس بہت کم ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یورپین ممالک کی نسبت تھی