خطبات محمود (جلد 33) — Page 33
1952ء 33 خطبات محمود ہندو لیڈر جاتے ، جلسے کرتے ، دعوتیں کرتے ، اور اُن میں اعلان کرتے کہ یہ لوگ شدھ ہو رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے بڑے بڑے لیڈر دیکھے نہیں ہوتے تھے۔ جب وہ وہاں آتے اُنہیں گلے لگاتے اور ہار پہناتے ۔ تو ایک روسی چل جاتی اور اس طرح پچاس یا ساٹھ آدمی اور آ جاتے ۔ روسی چل جاتی اور اس طرح پچاس یا ساٹھ آدمی اور آ جا پھر یہ پرو پیگنڈا کیا جاتا کہ اب تم رشتہ داریاں کہاں کرو گے؟ یہ تو آر یہ برادری تم کو رشتے نہیں دے گی تو کچھ لوگ اور آ جاتے ۔ اس طرح آریوں کو کامیابی ہو رہی تھی اور مسلمانوں کی ناکامی کی یہ وجہ بتائی کہ جہاں شور پڑ جاتا ہے وہاں علماء پہنچ کر مسئلے بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ مسئلے اُن پر کیا اثر کر سکتے ہیں جب کہ روپیہ اُن کی جیب میں پڑا ہو ۔ 60 ، 70 لیڈر وہاں گئے ہوتے ہیں ۔ پھر ضلع کے وکیل وہاں آجاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم تمہارے مقدمات کی مفت پیروی کریں گے ۔ اس وجہ سے وہ مسلمانوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ پھر انہوں نے بتایا کہ یہ مولوی جب وہاں پہنچ جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ ملکانوں کو کوئی آرام ملے اُنہیں پیغام ملتا ہے کہ فلاں چیز پکاؤ ، فلاں چیز لاؤ، گویا اُن کی روٹی کی پٹی بھی انہیں پڑ جاتی ہے اور ادھر آریوں کے ذریعہ ان کی جیبیں بھرتی ہیں ۔ پس ان دونوں افسروں نے رپورٹ یہ کی کہ جو لوگ وہاں تبلیغ کرنے جائیں ملکانوں میں سے اگر کوئی ان کی منت بھی کرے کہ میرے ہاں روٹی کھاؤ تو وہ روٹی نہ کھائیں ۔ اور دوسرے جن جگہوں پر شدھی ہو رہی ہے اُنہیں چھوڑ دیا جائے اور اُن کے گرد چند میلوں کے فاصلے پر نئے مراکز بنا کر تبلیغ کی جائے ۔ اس طرح اب تو مسلمان آریوں کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہیں پھر آریہ ہمارے پیچھے پیچھے بھاگتے آئیں گے اور ہم جیت جائیں گے کیونکہ ہمارا ثر ہمارا اثر پہلے سے شروع ہوگا ۔ چنانچہ اس تجویز کے مطابق عمل کیا گیا اور وہ لوگ جو اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے جاتے اُن سے یہ معاہدہ لیا جاتا کہ تمہاری خواہ کوئی منتیں کرے تم نے کسی کے گھر سے روٹی نہیں کھانی۔ مسلمان چونکہ بالعموم مہمان نواز ہوتے ہیں اس لئے ملکا نے کہتے بھی کہ مولوی صاحب چلو ہمارے ہاں کھانا کھاؤ تو وہ کہتے نہیں نہیں ہم تو خدمت کرنے آئے ہیں، خدمت کرانے نہیں آئے ۔ اور اگر کھانے کا وقت ہوتا تو وہ ملکانوں سے کہتے تم یہاں بیٹھ جاؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ۔ جو مبلغ آسودہ حال ہوتے وہ روزانہ تین تین چار چار آدمیوں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے ۔ اس طرح تمام علاقہ میں یہ مشہور ہو گیا کہ قادیانی مبلغ عجیب ہیں ہم پر بوجھ بننے کی بجائے ہمیں خود کھانا کھلاتے ہیں ۔ پھر مولوی لوگ آریوں کے پیچھے پیچھے بھاگتے تھے لیکن جو