خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 30

1952 30 خطبات محمود لیکن سیلاب یا طوفان جب آتا ہے تو وہ اپنے گھر اور دشمن کے گھر دونوں کو اڑا دیتا ہے۔پس جو کی کام بے اصولے اور بے ارادے کے ہوتے ہیں اُن کے نتیجہ میں خواہ ترقی بھی ہو وہ مفید نہیں ہو سکتی۔مثلاً ہمارا ملک آب آزاد ہے اور اپنی آزادی کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک سے گٹھ جوڑ اور کی اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس سے بڑے بڑے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ہمارا کی آدمی اگر انڈونیشیا جائے ، شام جائے ، یا ایران، لبنان ، عراق ، سعودی عرب ، مصر، مرا کو یا تیونس جائے تو اُس پر کتنا وقت خرچ آتا ہے اور اُس پر کتنی رقم خرچ آتی ہے لیکن اب اگر ایک مؤتمر ہوتا ہے تو وہاں 25 ممالک کے نمائندے آ جاتے ہیں اور ہمارا آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔لیکن چونکہ پروگرام بنایا نہیں جاتا اس لئے تین مؤتمر 2 ہوئیں لیکن ہمارے محکموں کو اُن کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا قطعی احساس نہیں ہوا۔پچھلے سال میں نے حکم دیا۔بسا اوقات مصلحنا میں چپ رہتا ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کام ہو جائے لیکن میں اس میں دخل نہیں دیتا کیونکہ دخل دینے سے اُتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا ذہنیت کے بدلنے سے ہوتا ہے۔اور اگر میں ہر جگہ بولوں تو ذہنیت پست ہو جائے گی۔اگر تم الارم سے جاگنے کے عادی ہو گے تو بغیر الارم کے تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں گی۔اس لئے میں چُپ رہتا ہوں اور جب وقت گزر جاتا ہے تو پوچھتا ہوں۔گزشتہ مؤتمر کے موقع پر میں نے وہاں جانے کا حکم دیا۔چنانچہ دو افسر سید ولی اللہ شاہ صاحب اور چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ وہاں گئے۔ان کو واپس آئے ہوئے 9 ماہ ہو چکے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں کی جو اُن کے فرض کے مطابق ہوتی۔جماعت کا ایک ہزار کی روپیہ خرچ ہو گیا لیکن انہوں نے نہ کوئی کام کی رپورٹ دی نہ کوئی پروگرام بنا اور نہ اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔اب مذہبی علماء کی کانفرس کراچی میں منعقد ہو رہی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ علماء ہمارے مخالف ہیں لیکن ان میں سے بھی ایک طبقہ شریف ہوتا ہے، ان میں سے بھی بعض دیانتدار ور عقلمند ہوتے ہیں ، ان میں سے بھی بعض خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہوتے ہیں۔اس وقت 25 ممالک یا جماعتوں سے علماء آئے ہوئے ہیں۔اگر ہمارا وفد وہاں گیا ہوتا اُنہیں ملتا اور تبلیغ کرتا تو اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔انہوں نے تبلیغ کا بھی پروگرام بنایا ہوا ہے اور احمدیوں کے سوا کون ہے جو اُنہیں اس بارہ میں ہدایت دے سکتا ہے۔کتنا اچھا موقع تھا کہ اُن پر جتا دیا جاتا کہ تمہارا اصل کام ہماری مدد کے سوا نہیں ہو سکتا۔لیکن ہمارے کارکنوں کے کانوں پر اور