خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 25

خطبات محمود 25 جو آپ کی خاطر ہے بنا آپ کی شے ہے میرا تو نہیں کچھ بھی یہ ہیں آپ کی املاک 1952 در حقیقت جب ایک شخص صداقت کو قبول کرتا ہے تو اُس کا کچھ نہیں رہتا۔جو کچھ اُس کا ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی خاطر سارا کام کیا تھا اور خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ بدلہ دیا جو نہ انگریز نہ کوئی اور دے سکتا تھا۔انگریزوں کے اپنے سلوک سے ظاہر ہے کہ وہ بھی کی سمجھتا تھا کہ مرزا صاحب میرا انعام نہیں لیں گے۔پھر اگر مرزا صاحب انعام لینا قبول بھی کر لیتے کی تو وہ کیا دیتا؟ یہی کہ چند مربعے زمین دے دیتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اتنے مربعے دیئے جو انگریزی نہیں دے سکتے تھے۔سینکڑوں ایسے لوگ جن کے پاس کئی کئی مربعے زمین تھی اور بعض کے پاس تی سوسو د و دو سو مربع زمین تھی احمدی ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے احمدیت کو اتنا کچھ دیا جو انگریزوں کی طاقت سے باہر تھا۔اس سے پتا لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خدمت کی تھی وہ انگریزوں کی نہیں تھی۔آخر آپ نے یہی کہا تھا کہ فساد نہ کرو، حکومت کی اطاعت کرو اور امن قائم رکھو اور جہاد کے غلط معنی نہ کرو۔اور یہ خدمت اسلام کی خدمت تھی۔ہم دیکھتے ہیں جوں جوں دوسرے ممالک کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے اقتصادیات ، سیاسیات اور معاشیات کے ماہر یہ کہہ رہے ہیں کہ جہاد کی یہ تعریف نہیں کہ جو مسلمان نہ ہوا سے قتل کر دیا جائے بلکہ جہاد کے معنی محض دفاع کے ہیں۔جب پنڈت نہرو نے جہاد کے لفظ پر اعتراض کیا تو موجودہ پرائم منسٹر جو اُس وقت گورنر جنرل تھے انہوں نے اعلان کیا کی کہ جہاد کے تم معنی ہی نہیں سمجھتے۔جہاد کے معنی دفاع کے ہیں۔اور یہی معنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے تھے۔جب اور کوئی رستہ نہ ملا تو لوگ اب آپ کی نقل کر رہے ہیں۔اس سے زیادہ بدلہ اور کیا مل سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ کیا تھا وہ اسلام کی خدمات تھیں۔اگر آپ انگریزوں کی خدمات کرتے تو مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ اگر اشارہ بھی کرتے تو انگریز دوڑا ہوا آتا۔خدا تعالیٰ کا بدلہ دینا بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جو کچھ کیا تھا خدا تعالیٰ کی خاطر کیا تھا اور آپ کی نیت نیک تھی۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ سارے مولوی اپنا پورا زور احمدیت کے خلاف لگا رہے ہیں لیکن وہ احمدیت کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔