خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 337

1952ء 337 خطبات محمود بھی ضرورت ہے۔ اب ہمیں حدیث ، تصوف ، فقہ، قرآن کریم اور دوسرے ضروری مسائل کا ترجمہ کر کے باہر پھیلانا ہوگا ۔ اگر ایک زبان میں دس دس صفحات کی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی پھیلائی جائیں تو دنیا میں پندرہ بیس ہزار زبانیں ہیں ۔ اگر بڑی بڑی زبانوں کو ہی لیا جائے تو وہ ہیں تھیں زبانیں ہو جاتی ہیں ۔ اگر ان زبانوں میں ہی ہم ایک ایک لاکھ صفحات شائع کریں تو یہ تمیں لاکھ صفحات ہو جاتے ہیں ۔ اور اگر ہر کتاب کے دس دس ہزار نسخے بھی رکھ لئے جائیں تو یہ اربوں صفحات بن جاتے ہیں ۔ اور پھر کہیں جا کر ہم ان لوگوں کو اسلام کے ابتدائی مسائل سمجھا سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تو انہیں یہ بھی پتا نہیں لگا کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے ۔ مثلاً ہم انہیں کہتے ہیں روزہ رکھو لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ روزہ کیسے ٹوٹتا ہے ۔ وہ روزے رکھ لیتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ کیا وہ روزہ کی حالت میں بعض چیزیں کھا لیتے ہوں ۔ مثلاً ان قوموں میں اگر روزہ کا یہ طریق ہے کہ ڈبل روٹی نہیں کھانی ہاں دودھ وغیرہ استعمال کر لینا چاہیے تو شاید وہ دودھ کا استعمال کر لیتے ہوں۔ شیخ رحمت اللہ صاحب مخلص احمدی تھے بعد میں وہ پیغامی ہو گئے لیکن وہ بدگو نہیں تھے وفات کے وقت انہوں نے ندامت کا اظہار بھی کیا اس لئے ہم تو یہی دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں معاف کر دے اور ان کی قربانیوں کا اچھا بدلہ انہیں دے کیونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت پیارے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ میں انگلینڈ گیا ہوا تھا ۔ ( وہ اکثر کاروبار کے سلسلہ میں ولایت جاتے تھے ) ایک دن اتفاقاً میں باورچی خانہ میں چلا گیا تو نوکرانی ہنڈیا پکا رہی تھی ۔ میں نے اسے ہدایت کی ہوئی تھی کہ میرا کھانا الگ پکانا ۔ میں نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا تم نے میرا کھانا الگ پکایا ہے؟ اُس نے کہا گھبرائیں نہیں آپ کا کھانا الگ پک رہا ہے ۔ مجھے سور کے گوشت کی خوب پہچان ہے اس لئے جب میں آپ کے لئے سالن ڈالتی ہوں تو سور کی بوٹیاں الگ کر لیتی ہوں ۔ میں نے کہا یہ کیا حماقت ہے، سور کا گوشت تو میرے مذہب میں حرام ہے اور تم میرے لئے اس ہنڈیا میں سالن پکاتی ہو جس میں سور کا گوشت پک رہا ہے اور کہتی ہو کہ میں بوٹیاں الگ کر لیتی ہوں ۔ اس نے کہا اچھا آئندہ الگ کھانا تیار کیا کروں گی ۔ کچھ دنوں کے بعد میں دوبارہ باورچی خانہ میں گیا اور دیکھا کہ اگر چہ دو الگ الگ ہنڈیاں پک رہی ہیں لیکن اُس کے ہاتھ میں ایک ہی چہ ہے۔ وہ وہی چھہ کبھی ایک ہنڈیا میں پھیرتی ہے اور کبھی دوسری ہنڈیا میں ۔ میں نے کہا یہ تم کیا کر رہی ہو ، ایک ہی چمچہ میری ہنڈیا میں اور دوسری ہنڈیا میں ہے۔