خطبات محمود (جلد 33) — Page 23
1952 23 خطبات محمود اسی قسم کا خطاب دے دیا جائے جو ان کی شان کے مطابق ہو تو وہ انکار نہیں کریں گے۔اس کی کے بعد مجھ کو خط لکھا تو میں نے جواب دیا کہ تم کتنے گھٹیا درجہ کے مومن ہو۔وہ خلیفہ اسیح کے خطاب سے بڑھ کر کون سا خطاب مجھے دیں گے۔میں ایک مامور من اللہ کا خلیفہ ہوں اگر وہ مجھے بادشاہ بھی بنادیں گے تو وہ اس خطاب کے مقابلہ میں ادنیٰ ہو گا۔تم فور آ جاؤ اور اُس ممبر سے کہو کہ میں نے جو جواب دیا تھا وہ غلط تھا۔اگر آپ انہیں کوئی خطاب دیں گے تو وہ اسے اپنی ذلت اور ہتک سمجھیں گے۔اسی طرح ایک دفعہ حکومت کے ایک رکن نے میرے ایک سیکرٹری سے کہا کہ اب خطابات دیئے جانے کا سوال ہے۔اگر مرزا صاحب منظور کر لیں تو انہیں بھی کوئی خطاب دے دیا جائے۔تو انہوں نے کہا وہ آپ کا کوئی خطاب برداشت نہیں کریں گے۔اسی طرح ایک اور افسر نے ایک احمدی رئیس سے کہا کہ اب مربعے مل رہے ہیں۔اگر مرزا صاحب پسند کریں تو انہیں بھی کچھ مربعے دے دیے جائیں۔انہوں نے مجھ سے اس بات کا ذکر کیا تو میں نے کہا یہ تو میری ذلت اور ہتک ہے کہ میں حکومت سے کوئی انعام لوں۔اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم پیسوں کی کے لئے سب کام کرتے ہیں۔پس یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انگریزوں کو کوئی چٹھی لکھی ہو اور اُن سے اپنی خدمات کے بدلہ میں کوئی چیز مانگی ہو اور انگریز خاموش رہا ہو۔میری نظر سے تو ایسا کوئی مضمون نہیں گزرا۔لیکن فرض کرو اگر آپ نے ایسا کوئی فقرہ لکھا بھی تھا تو جس شخص کو یہ فقرہ لکھا گیا تھا اُس نے اس کے کیا معنی لئے تھے ؟ اگر اس نے یہی معنی لئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی خدمات کے بدلہ میں اُن سے کچھ انعام مانگ رہے ہیں تو انہوں نے ان لوگوں کو جنہوں نے بعض حقیر خدمات کیں ( ہمارے نزدیک تو ہر نیک کام خدمت ہوتی ہے لیکن یہاں وہ خدمات مراد ہیں جو کسی لالچ اور طمع کی بناء پر کی جائیں ) زمینیں دیں، خطابات دیئے ، اعزاز بھی کئے لیکن حضرت مرزا صاحب کی ان خدمات کا جن پر مولوی کی آج بھی سر پیٹ رہے ہیں کہ مرزا صاحب نے انگریزوں کی مدد کر کے اسلام کی بنیادیں کھوکھلی کچ کر دیں اور ان کی طاقت کو بڑھایا ہے کوئی بدلہ نہ دیا۔ان حالات کو دیکھ کر دو باتوں میں سے ایک ہی ماننی پڑتی ہے۔یا یہ کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریزوں کی کوئی خدمت نہیں کی یا خدمت تو کی تھی مگر اس کا بدلہ لینا پسند نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اسے خدا تعالیٰ کی خدمت سمجھتے تھے۔