خطبات محمود (جلد 33) — Page 300
1952ء 300 خطبات محمود کے کسی خطرہ کا موجب نہیں ورنہ وہ مورمن 1 لوگوں کے خلاف کیوں شورش کر ۔ حبشیوں کو وہاں کیوں مار پیٹ ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حبشی تعداد میں زیادہ ہیں اور امریکن لوگ بوں مار پیٹ ہوتی ہے ۔ اس کی تعداد میں زیادہ ہیں اور امریکی لوگر ان سے ڈرتے ہیں ۔ لیکن احمدی تھوڑے ہیں اس لئے وہ ہمیں کسی خطرہ کا موجب نہیں سمجھتے ۔ وہ ہمیں ہنسی اور مذاق سمجھتے ہیں ۔ ورنہ جب ہماری جماعت بڑھ گئی تو لازما وہاں بھی ہماری مخالفت ہیں۔ ہو گی ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت قائم ہوئی ہے تو خدا تعالی کے کے ماتحت قائم ہے تو انسان بیشک کہیں کہ ہم اسے ختم کر دیں گے لیکن وہ اسے کبھی ختم نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ جس چیز کے متعلق خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بڑھے وہ بڑھ کر رہتی ہے ۔ صرف دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ہماری نیتیں خدا تعالیٰ کی نیت سے مل گئی ہیں ۔ دنیا میں تغیر تبھی پیدا ہوتا ہے جب انسان کی نیت خدا تعالیٰ کی نیت سے مل جائے ۔ لیکن ہماری طرف سے اس بارہ میں بڑی کوتاہی ہو رہی ہے۔ میں نے بالعموم دیکھا ہے کہ جب خطرہ پیدا ہو جماعت بیدار ہو جاتی ہے اور جب امن قائم ہو جائے تو بیٹھ جاتی ہے ۔ حالانکہ اگر امن اور خطرہ دونوں حالتوں میں جوش قائم رہے تب ہمیں کامیابی نصیب ہو سکتی ہے۔ اگر جماعت امن میں بیٹھ جاتی ہے اور خطرہ پیدا ہو تو بیدار ہو جاتی ہے تو ہماری کامیابی میں دیر لگ جائے گی ۔ کیونکہ اگر ہم سوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ہمارے لئے جاگتا ہے تب بھی ہمیں کامیابی نہیں ہو سکتی اور اگر ہم جاگتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ہماری طرف توجہ نہیں تب بھی ہمیں کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ ہماری کامیابی تبھی ہوگی جب ہمارے نیک اعمال کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ بھی فیصلہ کرے کہ اُس نے ہمیں کامیاب کرنا ہے اور ہم بھی بیدار اور ہوشیار ہوں اور اپنے فرائض کو ادا کرنے والے ہوں ۔ پس اپنے اندر بیداری پیدا کرو اور قربانیوں میں ایسا استقلال دکھاؤ کہ خدا تعالیٰ کے سامنے تم یہ کہہ سکو کہ ہم نے جہاں قدم مارا تھا اُس سے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ آگے بڑھے ہیں ۔ دلوں کو بدلنا خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہم ہر قدم آگے بڑھاتے چلے جائیں گے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے نازل ہوں گے اور اس کی نصرت ہمیں حاصل ہوگی جو ہمیں کامیاب و کامران کر دے گی ۔ عیسائیت کو دیکھ لو تین سو سال تک عیسائیوں نے مصائب اور تکالیف برداشت کیں آخر تین سو سال کے بعد ایک بادشاہ کے دل پر فرشتہ کا نزول ہوا اور وہ عیسائی ہو گیا۔ بادشاہ عیسائی ہوا تو اُس ملک کے سب لوگ عیسائی ہو گئے اور ایک دوسال میں سارے یورپ پر ان کا