خطبات محمود (جلد 33) — Page 269
1952 269 خطبات محمود آپ کو ساتھ لیے پلیٹ فارم پر ٹہل رہے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی۔آپ نے جب دیکھا تو کہا بڑا غضب ہو گیا ہے۔کل کو اشتہارات اور ٹریکٹ نکل آئیں گے کہ مرزا صاحب پلیٹ فارم پر اپنی بیوی کو ساتھ لئے پھر رہے تھے۔ان میں خود تو اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس طرف توجہ دلاتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے پاس گئے اور کہا مولوی صاحب! غضب ہو گیا کل اخباروں میں شور پڑ جائے گا ، اشتہارات اور نجی ٹریکٹ نکل آئیں گے کہ مرزا صاحب پلیٹ فارم پر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر پھر رہے تھے۔اور اگر ایسا ہوا تو بہت خرابی ہو گی۔آپ خدا کے واسطے حضرت صاحب کو سمجھا ئیں۔حضرت خلیفہ اسبح الاول نے فرمایا کہ آخر اس میں کون سی برائی ہے؟ گاڑی میں طبیعت گھبرا جاتی ہے۔اگر حضرت صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر باہر ٹہل رہے ہیں تو اس میں کون سا حرج ہے؟ میری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی۔آپ کو اگر یہ بات بُری لگتی ہے تو خود جائیے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ بات کہہ دیجئے میں تو نہیں جاؤں گا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا بہت اچھا میں خود جاتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عملتے ٹہلتے بہت دور جا چکے تھے مولوی صاحب وہاں گئے۔واپس آئے تو گردن جھکائی ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرماتے ہیں کہ مجھے شوق پیدا ہوا کہ پوچھوں کیا جواب ملا ہے۔چنانچہ میں نے دریافت کیا مولوی صاحب ! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فرمایا ہے؟ مولوی صاحب نے کہا میں نے جب کہا ت حضور ! آپ کیا کر رہے ہیں؟ کل اخبارات شور مچادیں گے کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کے ساتھ اسٹیشن پر پھر رہے تھے۔تو آپ نے فرمایا کہ آخر وہ کیا کہیں گے؟ یہی کہیں گے نا کہ مرزا صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لئے ہوئے پھر رہے تھے۔مولوی صاحب شرمندہ ہو کر واپس آگئے۔واقعی بات یہی تھی حضرت اماں جان نے پردہ کیا ہوا تھا اور پھر میاں بیوی کا اکٹھے پھر نا قابلِ اعتراض بھی تو نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بیویوں کے ساتھ پھرتے تھے۔ایک دفعہ لشکر کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ دوڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہار گئے اور حضرت عائشہ جیت گئیں۔دوسری دفعہ پھر دوڑے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور حضرت عائشہ ہار گئیں کیونکہ حضرت عائشہ کا جسم کچھ موٹا ہو گیا تھا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم