خطبات محمود (جلد 33) — Page 258
1952ء 258 خطبات محمود ہوں ، میں دو لے جاتا ہوں، میں چار لے جاتا ہوں بظاہر یہ روٹی کا سوال تھا لیکن یہ دین تھا۔ اس لئے کہ اس سے ایک دینی ضرورت پوری ہوتی تھی ۔ در حقیقت لوگوں نے دین کو محدود کر دیا ہے اور اس کے معنی اس قدر کمزور کر دیتے ہیں کہ کے معنی اس کوئی چیز دین میں باقی نہیں رہی ۔ ورنہ دنیا کی سب چیزوں کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ان ۔ کی سب چیزوں سے تعلق پیدا کر نا دین ہے۔ خدا تعالیٰ براہِ راست کسی کو نہیں ملتا بلکہ خدا تعالیٰ یتیم کی پرورش کرنے سے ملتا ہے، بیوہ کی خدمت کرنے سے ملتا ہے ، کا فر کو تبلیغ کرنے سے ملتا ہے، مومن کو مصیبت سے نجات دلانے سے ملتا ہے۔ یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ملنے کے ذرائع ہیں ۔ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نیچے اُتر آتا ہے ۔ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روحانی بینائی اور معرفت کے مطابق انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ آ گیا ہے لیکن اس کا ذریعہ بیوہ کی خدمت کرنا ہوتا ہے ، یتیم کی پرورش کرنا ہوتا ہے یا دوسرے قومی کام کرنا ہوتا ہے اور یہی دین ہے۔ اگر تم مساجد میں ذاتی باتیں کرتے ہو مثلاً کہتے ہو تمہاری بیٹی کی شادی کے متعلق کیا بات ہے یا میری ترقی کا جھگڑا ہے افسر مانتے نہیں میں کوشش کر رہا ہوں تو یہ باتیں کرنا مسجد میں جائز نہیں ۔ سوائے امام کے کہ اُس کے ذمہ قوم کی خدمت ہے اور نہ صرف ان باتوں کا کرنا مسجد میں جائز نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا بھی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کام میں برکت نہ دے۔ اب اگر کسی شخص کو شوق ہے کہ وہ شخص کو ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا لے تو میں ایسے دیر شخص کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اگر کسی کو یہ شوق ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں لے تو وہ مسجد سے نکل کر ایسی باتیں کرے۔ پس مساجد کے اندر ذکر الہی کرو ۔ لیکن ذکرِ الٰہی کے وہ تنگ معنی نہیں جو ملاں ملنٹے کرتے ہیں ۔ ذکر الٰہی اُن تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملی ، سیاسی علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں ۔ لیکن تمام وہ باتیں جولڑائی ، دنگا یا قانون شکنی کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں خواہ اُن کا نام ملی رکھ لو ، سیاسی رکھ لو ، قومی یا دینی رکھ لو مساجد میں اُن کا کرنا نا نا جائز ہے۔ دوسری بات جس کے متعلق اس نوجوان نے مجھے تحریر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بازاروں میں لوگ بے تکلف مجالس کرتے ہیں اور لڑتے جھگڑتے ہیں ۔ اس معاملہ میں سوائے دوسرے لوگوں کی باتیں سننے کے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں بازار میں نہیں جاتا۔ لیکن اگر کوئی شخص بازار میں