خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 256

1952ء 256 خطبات محمود قائمقام قرار دیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بھی اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو شخص کے یا ہو جاتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں جو شخص وضو کر کے مسجد میں آئے اور وہاں امام کے انتظار میں بیٹھے خدا کے نزدیک وہ ایسا ہی ہے کہ گویا وہ نماز پڑھ رہا ہے 2۔ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایساہی ہے کہ وہ کسی قومی کام کے لئے انتظار میں بیٹھنا نماز کا قائم مقام ہوگا ۔ - پس مساجد خالی سُبحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان میں قومی کام بھی کئے جا سکتے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ کام امن صلح اور نیکی کے ہوں ۔ مثلاً اگر لوگ مسجد میں سیاسی جلسے کریں اور قانون شکنی کریں اور یہ کہہ دیں کہ مسجد خدا تعالیٰ کا گھر ہے ہمیں حکومت مسجد میں قانون شکنی کی وجہ سے نہ پکڑے تو اُن کا ایسا کہنا غلط ہوگا ۔ مساجد قانون شکنی اور ناجائز کاموں کے لئے نہیں بلکہ مساجد جائز قومی اجتماعوں کے لئے بنائی گئی ہیں ۔ گویا مساجد میں ہر وہ کام جو اجتماعی حیثیت رکھتا ہو کیا جا سکتا ہے۔ مگر وہ کام جو قانون کے مطابق ہو صلح کی غرض سے ہو، قیام امن کی غرض سے ہو ۔ خدا تعالیٰ نے مساجد کو حکومت کے خلاف فساد کی جگہ بنانا ناجائز قرار دیا ہے اور نہ صرف نا جائز قرار دیا ہے بلکہ اس قسم کی مساجد کو گرا دینے کا حکم دیا ہے ۔ - پس ایک تو میں پھر اپنے اس مضمون کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ دوست مساجد کون میں زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کریں لیکن میں ذکرِ الٰہی کو محدود نہیں کرتا ۔ مساجد میں قومی اور اجتماعی کام بھی کئے جا سکتے ہیں ۔ مثلاً مساجد ہی ہیں جن میں یہ پتا لگ سکتا ہے کہ کون باہر سے آیا جاسکتے ہے۔ فرض کرو کوئی احمدی گوجرانوالہ، لائل پور ، یا ملتان سے یہاں آتا ہے وہاں چونکہ آج کل شورش ہو رہی ہے اس لئے قدرتاً ہر ایک احمدی کو یہ شوق ہوگا کہ اُسے پتا لگے کہ وہاں جماعت کا کیا حال ہے اور اس کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کیا کر رہی ہے۔ اب اگر وہ مسجد میں اس احمدی سے یہ باتیں نہیں پوچھتا تو اُس کا اجتماعی علم نامکمل رہ جاتا ہے ۔ اگر چہ بظاہر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اس سے دنیوی باتیں پوچھ رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ دنیوی باتیں نہیں ۔ اگر وہ اس قسم کی باتیں پوچھتا ہے تو وہ اجتماعی اور قومی حالت سے واقفیت حاصل کرتا ہے اور یہ ذکر الہی ہے۔ بظاہر تو یہ ہو گا کہ اُس کے لڑکے کو کسی نے طمانچہ مارا ہے یا فلاں لڑکے کو سکول سے نکال دیا گیا ہے۔ یا مثلاً فلاں استانی کو سکول سے ہٹا دیا گیا ہے یا کنویں سے پانی بھرنے سے احمدیوں کو روک دیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب باتیں دینی ہوں گی اور ذکر الہی کہلائیں گی ۔ پس ایسے اہم امور