خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 240

1952 240 خطبات محمود پس مصائب کے وقت خدا تعالیٰ ہمارے قریب آجاتا ہے اور قریب آنے سے جو خوشی اسے جی ہوتی ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔وہ مستغنی ہے ، وہ صمد ہے اور اس کو ہماری احتیاج نہیں۔ہمیں اس کی احتیاج ہے۔بھوک کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کھانے کو کچھ دے۔پیاس کا وقت ہوتا ہے تو ہمیں اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں پینے کو کچھ دے۔کپڑے پہنے کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کپڑے دے۔تعلیم کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں تعلیم دے۔ملازمت کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کوئی روزگار دے۔شادی ہوتی ہے تو ہمیں اس کی تھی احتیاج ہوتی ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات اچھے رہیں۔خاوند کو اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ بیوی اس سے محبت کرے۔بیوی کو اس کی احتیاج ہوتی ہے کہ خاوند ا سے پال سکے اور محبت کر سکے۔پھر آگے بچوں کی ضرورتیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس تمام دوران میں اسے ہماری احتیاج نہیں ہوتی۔ہم بھو کے ہوتے ہیں تو ہمیں احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں کھانے کو کچھ دے۔پھر خدا تعالیٰ ہمارے قریب کیوں آتا ہے۔ہم جب پیاسے ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں کہ وہ ہماری پیاس کو بجھا دے۔لیکن خدا تعالیٰ ہمارے قریب کیوں آتا ہے؟ اسے تو پیاس نہیں ہوتی۔پھر ہم جوان ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں کہ وہ ہمیں کوئی اچھا ساتھی دے دے۔لیکن خدا تعالیٰ ہمارے قریب کیوں آتا ہے؟ اسے کیا ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہمارے پاس آئے ؟ غرض اس سارے اُتار چڑھاؤ میں ہم ہی خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں اور ہمیں کوئی نہ کوئی ضرورت ہوتی ہے جس کے پورا ہونے کے لئے ہم خدا تعالیٰ کے پاس جاتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے پاس آتا ہے اور بےضرورت آتا ہے۔جتنی تڑپ ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب جانے کی ہو سکتی ہے کوئی وجہ نہیں کہ وہی تڑپ خدا تعالیٰ کو ہمارے ملنے کیلئے ہو۔مگر جب وہ تڑپ رکھتا ہے کہ ہمارے قریب آئے تو ہماری کتنی بدقسمتی ہوگی کہ ہم اُس سے وہ محبت نہ کر سکیں جو وہ ہم سے کرتا ہے۔ہم اُس کے قرب کی اتنی قدر نہ کر سکیں جتنی لذت وہ ہمارے قرب سے حاصل کرتا ہے۔مصائب کا وقت ایک مومن کے لئے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ اس کے قریب آ جاتا ہے۔جتنا جتنا دشمن اُس کے قریب آتا جاتا ہے خدا تعالیٰ اُس سے بھی زیادہ تھی