خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 210

1952 210 خطبات محمود علم معانی کی ضرورت ہے ، فصاحت کی ضرورت ہے، لغت کی باریکیاں جاننے کی ضرورت کی ہے۔لیکن ولی اللہ بننے کے لئے ان باتوں کی ضرورت نہیں۔ہر ولی اللہ مفسر نہیں ہوتا اور نہ ہر مفسر ولی اللہ ہوتا ہے۔بعض ایسے مفسر بھی گزرے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دین سے بے بہرہ تھے۔مثلاً صاحب کشاف ہیں ان کی تفسیر نہایت اعلیٰ ہے لیکن کہتے ہیں کہ وہ نیچری تھے اس لئے انہوں نے روحانیت کو چھوڑ دیا ہے۔لیکن جہاں تک صرف، نحو، علمِ، معانی، علم، کلام، علم بدیع فصاحت و بلاغت اور لغت کا تعلق تھا انہوں نے قرآن کریم کی نہایت اعلیٰ تفسیر کی ہے۔پس یہ ضروری نہیں کہ جو قرآن کریم کی خدمت کرے وہ ضرور خدا رسیدہ ہوتا ہے۔نحو، صرف، علم معانی ،علم کلام اور لغت جاننے والا بھی یہ کام کر سکتا ہے۔اسی طرح روحانیات کے عالم کے لئے ضروری نہیں کہ وہ تفسیر بھی جانتا ہو۔ہاں یہ دونوں چیزیں جمع ہو سکتی ہیں۔روحانیات کا جاننے والا ظاہری علوم سے بھی واقف ہو سکتا ہے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ظاہری علوم کا جاننے والا روحانیات کا عالم بھی ہو۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر روحانی عالم ظاہری علوم کا بھی عالم ہو۔یا ہر ظاہری علوم کا جاننے والا روحانی عالم بھی ہو۔ہر ایک شخص جو ولایت کے رستوں پر چلے گا وہ امید کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے۔اپنی نمازوں کو سنوارو ، تم اپنی عبادت کو سنوارو اور آہستہ آہستہ تم اس بات کی عادت ڈالو کہ رمضان کے علاوہ تم دوسرے ایام میں بھی روزے رکھو۔فرض زکوۃ کے علاوہ تمہیں زائد صدقہ دینے کی بھی عادت ہو۔اور ہو سکے تو تم حج بھی کرو۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں آج کل حج پر وہ چی لوگ جاتے ہیں جن پر حج فرض نہیں اور وہ لوگ حج کے لئے نہیں جاتے جن پر حج فرض ہے۔مثلاً بیمار حج کے لئے جاتے ہیں تا وہ بیت اللہ میں جا کر دعا کریں کہ وہ تندرست ہو جائیں یا خدا تعالیٰ انہیں اولا داور مال دے۔لیکن وہ امیر اور مالدار شخص جس پر حج فرض ہے وہ آرام سے بیٹھا رہتا ہی ہے۔اور اگر وہ حج کرتا ہے تو محض شہرت کے لئے یا اپنی تجارت کو وسعت دینے کے لئے ، اس جی سے زیادہ نہیں۔تم وہ اعمال کرو جن سے خدا تعالیٰ ملتا ہے۔خدا تعالیٰ نوافل سے ملتا ہے۔فرائض حتی تو خدا تعالیٰ نے مقرر کر دئیے ہیں۔ان کو پورا کرنے سے انسان جنت میں چلا جاتا ہے لیکن اُسے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے تم نوافل کی عادت کی ڈالو۔یہ مصائب عارضی ہیں۔بڑی چیز خدا تعالیٰ کا ملنا ہے۔اگر کوئی مصیبت نہ بھی ہو تب بھی خدا تعالیٰ کی