خطبات محمود (جلد 33) — Page 209
1952 209 خطبات محمود کرتے تو تم نے خدا تعالیٰ کو ملنے کے لئے کوشش ہی نہیں کی۔اگر تم پہلی جماعت میں داخل نہیں ہے ہوتے تو تم ایم اے پاس کیسے کرو گے۔پھر حسرت کے ساتھ تم کہو گے کہ ہمیں خدا نہیں ملا۔می حالانکہ خدا تعالیٰ کو ملنے کے لئے بھی کلاسز ہیں۔جب تک تم پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری کلاس پاس نہیں کرو گے تم خدا تعالیٰ کو مل نہیں سکتے۔تم نے خدا تعالیٰ کو ملنا ہو تو پہلے پہلی جماعت پاس کرو۔دوسری جماعت پاس کرو۔تیسری جماعت پاس کرو۔چوتھی جماعت پاس کرو۔پانچویں جماعت پاس کرو۔چھٹی جماعت پاس کرو۔ساتویں جماعت پاس کرو۔مڈل پاس کرو۔میٹرک کا امتحان پاس کرو۔کالج کی پہلی جماعت پاس کرو۔دوسری جماعت پاس کی کرو۔تیسری جماعت پاس کرو۔چوتھی جماعت پاس کرو۔پانچویں جماعت پاس کرو۔چھٹی کی جماعت پاس کرو۔تب جا کر تم ایم اے پاس کر سکتے ہو۔تم نے پہلی جماعت پاس نہیں کی لیکن تم یہ شکوہ کرتے ہو کہ ہم نے ایم اے پاس نہیں کیا۔تم نے قاعدہ شروع نہیں کیا اور رور ہے ہو کہ ہم نے ایم اے پاس نہیں کیا۔جو شخص پہلی جماعت پاس نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ مجھے ایم اے میں چ داخل کرا دو وہ بے وقوف ہے۔پس تم اپنے نفس کو آہستہ آہستہ ان مشکلات اور مصائب میں ڈالو جن کے بعد روحانی درجات ملتے ہیں۔پھر انسان اور ترقی کرتا ہے اور اس قابل بن جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اُس پر نازل ہو۔اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہیں وہ نتیجہ نہیں مل سکتا جو قر بانیوں کے بعد ملتا ہے۔تم ان راستوں پر چلو جن راستوں پر چل کر تم اعلیٰ مقامات حاصل کر سکتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو بھیجا تھا تو اسی لئے کہ جو اس کے ہاتھ میں ہاتھ رکھے گا وہ ولی اللہ بن جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت تبدیل نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کی سنت قائم ہے۔ولی اللہ بننے کے لئے جو کلاسیں مقرر ہیں جب کوئی شخص انہیں پاس کر لے گا تو وہ ولایت کے درجہ کو حاصل کر لے گا۔لوگوں نے حماقت سے یہ سمجھ لیا ہے کہ جب تک عربی زبان نہ آئے کوئی شخص ولی اللہ ع نہیں بن سکتا حالانکہ اگر کوئی شخص قرآن کریم سُن سکتا ہے اور وہ سنتا ہے تو یہی بات اس کے لئے کافی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتا اور وہ سنتا بھی نہیں تو وہ ولی اللہ بن جائے۔ولی اللہ بننے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ کوئی بڑا مفسر ہو۔اگر وہ قرآن کریم کا سا دا ، ترجمہ سن لیتا ہے اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ولی اللہ بننے کیلئے یہ بات کافی ہے۔عالم کہلانے کے لئے صرف کی ضرورت ہے ، نحو کی ضرورت ہے، علم بدیع کی ضرورت ہے،