خطبات محمود (جلد 33) — Page 205
1952ء 205 خطبات محمود اپنے آپ کو تم سے زیادہ قوی، دلیر اور بہادر سمجھتا ہے تو تمہیں ڈرانے کی جرات نہیں ہو سکتی تم سے زیادہ اور بہادر تو ڈرانے والا کسی کو صرف اسی اسی لئے ڈراتا ہے کہ وہ سمجھتا نتا ہے ہے کہ کہ دوسرا دوسرا شخص اتق اس اس سے سے ڈرتا ڈرتا ہے۔ ہے۔ اسی اسی لئے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص یا جماعت ڈرائے تو تم نمازیں شروع کر دو ۔ اگر ایک یا جماعت تو دو۔ شخص دوسرے شخص کے ڈرانے کے نتیجہ میں نماز شروع کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں کسی کی پروا ہے تو وہ نہیں کرتا۔ میں بندۂ خدا ہوں ۔ اور جب میں بندہ خدا ہوں تو مجھے کسی کا کیا ڈر۔ پس جب تمہیں اور میں بندہ ہوں تو کیا ڈر۔ کوئی شخص ڈراتا ہے یا وہ تم پر حملہ کرتا ہے تو تم خدا تعالیٰ کے سامنے جھک جاؤ۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ ایک بچہ جو نادان ہوتا ہے، جس کی عقل کم ہوتی ہے اسے بھی کوئی شخص مارنے لگتا ہے تو وہ کم ماں کے پاس چلا جاتا ہے۔ چاہے اس کی ماں کتنی ہی کمزور ہو وہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے وہ پاس جا کر محفوظ ہو گیا ہے ۔ مومن کو کیا خدا تعالیٰ پر اتنا یقین بھی نہیں ہونا چاہیے جتنا ایک بیوقوف اور کم عقل بچہ کو اپنی کمزور ماں پر ہوتا ہے؟ جب اس پر کوئی حملہ کرنے لگتا ہے تو وہ اپنی ماں کے پاس آ جاتا ہے ۔ مومن کو بھی چاہیے کہ جب وہ مشکل حالات میں سے گزرے تو وہ خدا تعالیٰ کے پاس آئے اور اس سے مدد مانگے ۔ اگر اسے خدا تعالیٰ سے ماں جتنی محبت بھی ہے تو وہ اس کے پاس دوڑا آئے گا۔ آخر عبادت کیا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سچی عبادت یہ ہے کہ تمہیں یقین ہو کہ تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم تمہیں یقین ہو کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ 3 اگر یہ یقین ہو جائے کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھتا ہے تو یہ ادنی عبادت ہے۔ اعلیٰ عبادت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تمہیں نظر آ رہا ہو۔ کیونکہ عبادت قرب اور رؤیت کا نام ہے ۔ اگر تم خدا تعالیٰ کو ماں کے برابر بھی سمجھتے ہو اگر تمہیں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ ایک زندہ وجود ہے تو سیدھی بات ہے کہ تم اُسی کے پاس بھاگ کر جاؤ گے ۔ عبادت اس بات کی شہادت ہوتی ہے کہ عبادت کرنے والے کے اندر ایمان پایا جاتا ہے ۔ عبادت اس بات کی شہادت ہوتی ہے کہ اسے کسی کی پروا نہیں ۔ میں نے گزشتہ جمعہ میں یہ تحریک کی تھی کہ تم ربوہ سے یہ سکیم شروع کرو کہ پانچ نمازوں کے علاوہ لوگ تہجد بھی ادا کیا کریں۔ اگر کوئی شخص صرف پانچ نمازیں ہی ادا کرتا ہے جو فرض ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ اگر وہ انہیں ادا نہیں کرتا تو وہ مسلمان کیسے رہ سکتا ہے ۔ وہ تو نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر بند کرتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ