خطبات محمود (جلد 33) — Page 9
1952ء 9 2 خطبات محمود ماضی کی بجائے مستقبل کو اپنے سامنے رکھو اور سوچتے رہو کہ تم نے اپنے فرائض کو کس طرح ادا کرنا ہے (فرمودہ 11 جنوری 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : وو اس ہفتہ میں چونکہ مجھے ضعف قلب کی شکایت رہی ہے اس لئے میں کھڑے ہو کر خطبہ ہو نہیں پڑھ سکتا ۔ بیٹھ کر خطبہ بیان کروں گا ۔ میں ہوں کہ دنیامیں ہرانسان کے اندر کوئی وقت مستی کا ہے اور کوئی دقت میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں ہر انسان کے اندر کوئی وقت سُستی کا آجاتا ہے اور کوئی وقت پستی کا آ جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام باسط بھی ہے اور قابض بھی ہے اس لئے وہ کبھی انسان کی فطرت میں قبض پیدا کر دیتا ہے اوربھی بس پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا ہوا کرتا ہے فطرت میں قبض پیدا کر دیتا ہے اور کبھی بسط پیدا کر دیتا ہے۔ اس حالت کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے گرد و پیش کے حالات کا بھی محاسبہ کرتا رہے ۔ اس لئے صوفیاء نے محاسبہ نفس کو ضروری قرار دیا ہے۔ میرے دل میں خیال گزرا ہے کہ اگر ہم اپنے تمام وقت کا جائزہ لیتے رہتے تو شاید ہم بہت سی بستیوں سے محفوظ رہتے ۔ کسی شاعر نے کہا ہے غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی اور یعنی گھڑیال سے وقت کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں کی عمر زیادہ ہو گئی۔ لیکن دراصل اُس کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ فرض کروکسی کی 60 سال عمر مقدر تھی ۔ وہ جب پیدا ہوا تو اُس کی عمر کے