خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 178

1952ء 178 خطبات محمود پڑے گا کہ تم نے پکا عہد کر لیا ہے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے۔ اگر تم نے پکا عہد کر لیا ہے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے تو تمہیں ان نظاروں کو دیکھ کر سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری موت کا وقت آگیا ہے۔ اب ہمیں اپنا بیچ چھوڑ نا چاہیے تا کہ وہ ہمیں ماریں تو ہماری جگہ اور لوگ موجود ہوں ۔ وہ انہیں ماریں تو اُن کی جگہ اور لوگ ہوں ۔ اُنہیں ماریں تو اُن کی جگہ اور لوگ ہوں ۔ یا تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے محض جتھا بندی کے طور پر جماعت بنائی ہے۔ جب لوگ گرفت کریں گے اور پکڑ دھکڑ شروع ہو گی تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم احمدی نہیں ۔ بہر حال تمہیں کوئی ایک فیصلہ کرنا ہو گا۔ اگر تم کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو مانناپڑے گا کہ تمہارا دماغ خراب ہے کیونکہ جس کا دماغ صحیح ہوتا ہے وہ آرام نہیں کیا کرتا۔ اگر تم آرام کرتے ہو، اگر تم پر سستی اور غفلت چھائی ہوئی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمہارا دماغ خراب ہے۔“ (غیر مطبوعه مواد از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) 2،1: بخارى كتاب التفسير تفسير سورة تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ - 3 وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ - (العصر :(4)