خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 173

1952ء 173 (20 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایسا تھا جس کو باوجود دشمنی کے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا (فرمودہ 13 جون 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: در بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جو چھپائے نہیں چُھپ سکتیں اور زور لگا کر بھی مخفی نہیں کی جاسکتیں ۔ اور بعض سچے انسان بھی ایسے ہوتے ہیں کہ انکی سچائی کو چھپانے کی ہر قسم کی کوششیں ناکام و نامراد رہتی ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوئی فرمایا تو مکہ کے لوگوں نے آپ کے دعوی کو ایک عجیب اور نئی بات سمجھ کر اُسے رڈ کر دیا۔ ابھی آپ کی باتوں اور اخلاق کا کے کو اور کر اسے دیا۔ کی کا ایک اور اثر دلوں سے مٹا نہیں تھا اور وہ فوری طور پر آپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے اس لئے عام طور پر مکہ والوں نے یہی خیال کیا کہ ایک اچھا بھلا شریف آدمی پاگل ہو گیا ہے۔ ایک دن آپ ایک بلند مقام پر کھڑے ہوئے اور آپ نے مکہ والوں کو بلانا شروع کیا ۔ جن لوگوں تک آپ کی آواز پہنچی تھی یا جو لوگ آپ سے وابستگی رکھتے تھے یا ان کے دلوں میں آپ کا ادب واحترام تھا وہ جمع ہو گئے اور آپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے مکہ کے لوگو! اگر میں تمہیں کہوں کہ جبل ابو قبیس (Qubais) کے پیچھے ایک لشکر بیٹھا ہے اور مکہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم