خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 172

1952 172 خطبات محمود روزہ رکھے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں روزہ رکھنے سے تکلیف ہوتی ہے اس لئے ہم روزہ نہیں کی رکھتے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کسی سے کہے کپڑا پہنو اس سے تمہارا نگ ڈھک جائے گا لیکن وہ کہے میں کپڑا نہیں پہنتا اس سے میرا جسم ڈھک جاتا ہے۔روزہ کی حکمت ہی یہی ہے کہ اس سے تکلیف برداشت کرنے کی عادت پڑتی ہے۔بعض قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان آرام سے کر لیتا ہے اور بعض قربانیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں قربانی کرنے والے کو تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔روزے بھی اسی قسم کی قربانیوں میں سے ہیں جو انسان کو تکلیف میں کی ڈالتی ہیں۔اس کے ذریعہ انسان تقویٰ اور طہارت کے حصول کے علاوہ جفا کش بھی ہو جاتا ہے جی اور اس سے ان قربانیوں کی بھی عادت پڑتی ہے جن میں انسان کو تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔مثلاً جہاد ہے جہاد میں گرمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے، کھانے پینے کی وقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔روزے رکھنے والے کو یقیناً جہاد دوسروں سے زیادہ آسان معلوم ہوگا۔اس کے علاوہ کی اور بھی بہت سی قربانیاں اور خدمتیں ہیں جو رمضان کی وجہ سے آسان ہو جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص روزے نہیں رکھتا اور بہانہ یہ بناتا ہے کہ اس سے اُسے تکلیف ہوتی ہے تو اُس کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کسی شخص کو کہا جائے تم روٹی کھاؤ تو وہ کہے میں روٹی نہیں کھا تا میرا پیٹ بھر جائے گا۔اسے کہا جائے تم پانی پیئو تو وہ کہے میں پانی نہیں پیتا میری پیاس بجھ جائے گی۔اسے کہا جائے تم کپڑا پہنو تو وہ کہے میں کپڑا نہیں پہنتا اس سے میرا جسم ڈھک جائے گا۔حالانکہ روٹی کی غرض ہی کی یہی ہے کہ پیٹ بھر جائے۔پانی پینے کی غرض ہی یہی ہے کہ پیاس بجھ جائے اور لباس پہننے کی غرض ہی یہی ہے کہ جسم ڈھک جائے۔“ ( الفضل 22 جون 1952ء) 1:البقرة:184 2 : بخاری کتاب الصوم باب فَضْل الصَّوم