خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 151

1952ء 151 17 خطبات محمود اگر ہم کوشش کریں تو ہمارا چندہ بہت بڑھ سکتا ہے اور ہمارا بار آسانی سے دُور ہو سکتا ہے )فرمودہ 23 مئی 1952ء( تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دو آج سائبان تو نظر آتے ہیں لیکن اب تک اس امر پر غور نہیں کیا گیا کہ مسجد کی عمارت اور سائبانوں کو کس طرح بچایا جائے ۔ غالبا یہ تیسرا ہفتہ ہے جب میرے سامنے نظارت تعلیم و تر بیت نے ایک تجویز پیش کی تھی لیکن آج بھی سائبان لگا دیئے گئے ہیں ، رستے دیوار کے ساتھ باندھے ہیں ، ہوائیں آ رہی ہیں اور سائبان اُڑ رہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ نظارت نے رپورٹ کی ہے کہ تین سائبان پھٹ گئے ہیں چنانچہ ایک سائبان سیا ہوا نظر آتا ہے لیکن وہ اُسی طرح کا سیا ہوا ہے جس طرح کسی اناڑی اور بے پروا شخص کا گر تہ پھٹ جائے تو وہ ململ میں لٹھا لگا لیتا ہے، لٹھے میں ململ لگا لیتا ہے یا سفید کپڑے میں رنگ دار چھینٹ لگا لیتا ہے ۔ سائبان پھٹے ہیں تو دوسوتی پر جو رنگ دار اور نقش و نگار والی ہے سفید کپڑا لگا دیا گیا ہے جو نہ اُس جتنا مضبوط نے ط ہے اور نہ دیکھنے میں اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ اصل چیز یہ ہے کہ اس کا صحیح علاج سوچا جائے ۔ اگر اس چھوٹی سی چیز کو بھی تین ہفتہ میں نہیں سوچا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے قیامت تک نہیں سوچا جائے گا۔ گا ۔ اس کے بعد میں جماعت کو ایک اہم سوال کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور وہ سوال ہے چندوں کی وصولی کا ۔ الفضل میں اس ہفتہ چندوں کے متعلق ایک اعلان شائع ہوا ہے۔ یہ اعلان ایک