خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 141

1952 141 خطبات محمود اُس وقت حساب پہلا ہو گیا تھا اور غلط حساب ہو جانے کی وجہ سے ان کی رقم زیادہ بن گئی تھی۔میں نے دیکھا ہے زمینداروں میں سے جو کمزور ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی کمزور ہوتے ہیں کہ اور جو مخلص ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی مخلص ہوتے ہیں اور ان کی قربانی بہت سے کھاتے پیتے کی لوگوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔یہی حال مزدوروں کا میں نے دیکھا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر غریب اور بھو کے مرنے والوں میں سو میں سے ہیں اچھے مخلص ہوتے ہیں تو کھاتے پیتے لوگوں کی میں سے سو میں سے دوا چھے مخلص ہوتے ہیں۔پس جہاں ان کا اخلاص قابلِ قدر ہے وہاں یہ بھی تھی ضروری ہے کہ ان کی رقم دوسروں جتنی ہی رکھی جائے اُن سے زیادہ نہ رکھی جائے۔میں نے کی اندازہ لگایا ہے کہ دو آنہ کے لحاظ سے بھی پندرہ بیس ہزار روپیہ سالانہ ہماری جماعت کے زمینداروں سے حاصل ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت کے زمینداروں کی زمین کسی صورت میں بھی دو اڑھائی لاکھ ایکڑ سے کم نہیں ہے۔پھر بیرون جات میں بھی لوگوں کے پاس زمینیں ہیں۔انڈونیشیا تو غریب ملک ہے مگر افریقہ اور امریکہ وغیرہ میں روپے کی قیمت زیادہ ہے اور پیداوار بھی زیادہ ہے۔اس لئے ان کے پاس روپیہ زیادہ ہے خصوصاً ایسٹ افریقہ میں۔پس اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس ذریعہ سے بھی ہزاروں روپیہ سالانہ مساجد کی تعمیر کے لئے اکٹھا ہوسکتا ہے۔تاجروں کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ تجویز یہ پاس ہوئی ہے کہ بڑے تاجر ہر مہینہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔بڑے تاجروں کا بعض دفعہ ایک ایک سودے کا منافع چار چار پانچ پانچ سو روپیہ ہوتا ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ کوئٹہ کے ایک دوست نے صرف ایک سودے کا منافع اڑھائی سو روپیہ بھجوا دیا ہے۔چھوٹا تاجر اگر ہزار سودوں کا منافع جمع کرے تب شاید وہ اڑھائی سو روپیہ تک پہنچے۔ہماری جماعت میں ایسے تاجر جو بڑی تجارتیں کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے چار پانچ سو کے قریب ہیں۔جیسے منڈیوں کے آڑھتی ہیں ، کمپنیوں والے ہیں، کارخانوں والے ہیں یا دوسرے تاجر ہیں۔اور چھوٹا تاجر تو کئی ہزار ہے۔چھوٹے تاجروں کے لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ فیصلہ ہے کہ وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔مثلاً ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ مجھے ایک آنے کا تیل دے دیں۔اب اس میں اس کا نفع ایک دھیلا یا دمڑی ہوگی۔یا کوئی آیا مچ