خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 108

1952 108 خطبات محمود اس پر بھی بہت کم طلباء نے اس کا اقرار کیا۔حالانکہ یہ چیز ہماری جماعت میں ایک معیاری رنگ کی رکھتی تھی۔لوگ سمجھتے تھے کہ جو شخص احمدی ہے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔مگر اب اس میں کمی آتی جارہی ہے۔اور اس کی ذمہ داری بڑی حد تک تعلیمی اداروں پر ہے۔اگر ایک استاد لمبے عرصہ تک ایک طالب علم کے ساتھ رہتا ہے تو میری سمجھ میں تو نہیں آ سکتا کہ اُس کو لڑکے کی کمزوری کا علم کیوں نہیں ہو سکتا۔یہ بات تو تھوڑے سے تجربہ میں ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔لڑکوں کی شکایات پر اسا تذہ کو اکثر جواب طلبی کرنی پڑتی ہے۔اس جواب طلبی میں اُن کو فور آپتا لگ سکتا ہے کہ کون لڑکا کی جھوٹ بولتا ہے۔اور پھر اگر وہ کوشش کریں تو اس کی اصلاح بھی کر سکتے ہیں۔لیکن جب جھوٹا آدمی یہ سمجھے کہ میرے افعال کو نا پسند نہیں کیا جاتا تو وہ اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے۔پس سچائی کی عادت اور محنت اور قربانی کی عادت نوجوانوں میں پیدا کرنی چاہیے۔نئے کارکن جو ہمارے سلسلہ میں آتے ہیں اُن کے متعلق بھی افسر یہی شکایت کرتے ہیں کہ وہ محنت نہیں کرتے۔اسی طرح دیانت میں بھی ان کا پہلو کمزور ہوتا ہے۔پچھلے دنوں تین واقفین زندگی پر یہ الزام لگے کہ انہوں نے دیانت سے کام نہیں کیا اور سلسلہ کا روپیہ مین کیا ہے۔اور یہ واقعات دو تین مہینہ کے اندراندر ہو گئے ہیں۔بے شک اس کی ذمہ داری اُن افراد پر بھی ہے لیکن اس کی بڑی ذمہ داری سکول کے اساتذہ، ہیڈ ماسٹر اور ناظر تعلیم پر آتی ہے۔کیونکہ نو جوانوں کے اخلاقی معیار کو بلند کرنا ہی ہمارے سکولوں کا اصل کام ہے۔ورنہ دوسرے سکول بھی چل رہے ہیں اور ہماری جماعت کے لڑکے اگر چاہیں تو ان میں بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔جماعت کے لڑکوں کی تعلیم کے لئے الگ درسگا ہیں کر لینے کا مقصد یہی ہے کہ احمدیت کے ماحول میں ان کی تربیت کی جائے۔اور اگر غور کیا جائے تو کسی کے متعلق یہ معلوم کرنے میں کوئی دقت ہی نہیں ہوتی کہ وہ جھوٹ بولتا ہے یا سچ بولتا ہے۔بعض اساتذہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے لڑکوں پر سختی کی تو وہ بھاگ جائیں گے۔میں اسے بھی بیوقوفی سمجھتا ہوں۔لڑکے کی عمر ایسی کی ہوتی ہے جس میں ایک حد تک سختی اُس پر کی جاسکتی ہے اور اس پر کسی عقلمند کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔یہ نادانی ہوتی ہے کہ جب اساتذہ سے پوچھا جائے تو ان میں سے بعض یہ جواب دے دیتے ہیں کہ ہم نے یہ سمجھا تھا کہ اگر ہم نے سختی کی تو ماں باپ ناراض ہو جائیں گے یا لڑ کے سکول۔