خطبات محمود (جلد 33) — Page 92
خطبات محمود 92 1952 انہیں دیکھ کر پتا لگتا ہے کہ ان میں کس طرح دین کو زندہ رکھنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔قادیان میں شروع شروع میں دو ہی علماء تھے۔حضرت خلیفہ اول اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب۔ان دونوں کا یہی طریق تھا کہ ہر وقت دینی مسائل سکھانے میں لگے رہتے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول تو طب بھی کیا کرتے تھے اور پھر طب کے علاوہ جو لوگ باہر سے آتے تھے انہیں آپ دینی مسائل کی بھی سکھایا کرتے تھے اور سارا دن درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحت آخری زمانہ میں خراب ہوگئی تھی اور اس سے پہلے بھی آپ کو اکثر تالیف و تصنیف کے کام کی وجہ سے باہر آنے اور مجلس میں بیٹھنے کا بہت کم موقع ملتا تھا۔اس لئے قادیان میں جو مہمان آتے وہ خالی اوقات میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے پاس ہی بیٹھتے۔کوئی قرآن کریم پڑھ رہا ہوتا تو کوئی حدیث کا مسئلہ پوچھ رہا ہوتا۔غرض مہمانوں کو ہر وقت ایک شغل ملا رہتا تھا۔دینی ماحول کی وجہ سے امام کے ساتھ لا زمانی بعض ایسے کام لگے رہتے ہیں کہ اسے مجالس میں بیٹھنے کا بہت کم وقت ملتا ہے۔اس لئے جماعت کی کی تربیت کے لحاظ سے امام کے بعد دوسرا درجہ علماء کا ہوتا ہے۔اور ان کے لئے بہترین جگہ مسجد ہے۔اگر علماء مساجد میں آئیں اور وہاں ہر وقت دینی کلاسیں لگی رہیں۔تو باہر سے آنیوالوں پر بھی اس کا اچھا اثر ہوگا۔اگر مسجد میں آباد نظر آئیں گی تو باہر سے آنیوالے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔میں ایک دفعہ مصر کی ایک بڑی مسجد میں گیا عصر کی نماز کا وقت تھا۔میں نے دیکھا کہ امام محراب کی بجائے ایک کو نہ میں نماز پڑھ رہا ہے۔اور چند آدمی اس کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ شاید جماعت پہلے ہو چکی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز باجماعت سے رد گئے ہیں۔اس لئے یہ ایک کو نہ میں نماز پڑھ رہے ہیں۔جب نماز ختم ہو چکی تو میں نے امام سے دریافت کیا کہ آپ ایک کونے میں کیوں نماز پڑھ رہے تھے۔اس نے کہا مجھے محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھانے سے شرم آتی تھی کہ لاکھوں کی آبادی میں سے صرف چار پانچ آدمی نماز پڑھنے آئے ہیں۔اس لئے میں محراب کی بجائے ایک کو نہ میں کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا تھا۔پس اگر مساجد آباد نہ ہوں تو دیکھنے والوں پر بھی یہ اثر پڑتا ہے کہ ان لوگوں میں دینی روح کی