خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 85

1952 85 خطبات محمود اصول تھا کہ فی کس ایک روٹی دی جائے تا ہر شخص کو کھانے کو کچھ نہ کچھ ضر ورمل جائے۔پھر آہستہ آہستہ نظام قائم ہونا شروع ہوا۔اس سے پہلے ریل کے تعلقات بند تھے ، رستے بند تھے اور اس لئے ٹوٹی پھوٹی جماعت جو موجود تھی وہ بھی مددنہیں کر سکتی تھی۔پھر جماعت کا خزانہ خالی تھا۔لیکن باوجود اس کے ہم نے ہجرت کر کے آنیوالوں کو مدد دی۔پھر ہم ربوہ آئے۔شروع شروع میں کی جب تک لوگ اپنی اپنی جگہ تک نہیں گئے اور انہیں اپنے اپنے رشتہ داروں کا پتا نہیں لگا اور وہ کی وہاں چلے نہیں گئے علاوہ کارکنوں اور ان لوگوں کے جو ہمارے ساتھ آئے تھے ربوہ میں اڑھائی سو یتامی اور بیوگان کے لئے کھانے پینے کا انتظام کیا گیا تھا۔اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔حکومت چالیس پچاس یتامی کے لئے کوئی دار الیتا میں کھولتی ہے تو اخبارات میں شور پڑ جاتا ہے کہ حکومت نے فلاں جگہ دار الیتامی کھولا ہے۔لیکن ہم نے باوجود سینکڑوں افراد کے کھانے پینے اور رہنے کا سامان کر کے شور نہیں مچایا۔پس اُس وقت مرکز میں رہنے والے مرکز سے یہ فائدہ اٹھاتے رہے کہ ان کے لئے ہر قسم کا مفت سامان کیا گیا۔اور جو اب مرکز میں رہتے ہیں وہ بھی کچ مرکز سے کافی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مرکز سے باہر جماعت میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمی ایسے کی تھے جنہیں کوئی مدد نہ مل سکی اور جب وہ ہمارے پاس آتے تو ہم کہتے کہ پہلے مرکز میں آنے کی والوں کو مدد دی جائے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرکز سے باہر بھی غرباء ، یتامیٰ اور بیو گان کی کی مدد ہوتی ہے۔لیکن وہ مدد مرکز کی نسبت بہت کم ہے۔باہر کی آبادی مرکز کی آبادی سے سینکڑوں کی گنے زیادہ ہے۔لیکن مرکز سے باہر رہنے والے غرباء، یتامیٰ اور بیوگان کی امدا د مرکز میں رہنے والے غرباء، بیتامی اور بیوگان کی امداد سے سینکڑوں گنے کم ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مرکز میں رہنے والے لوگ ہمارے سامنے ہیں اور قرآن کریم کے اس حکم کے ماتحت کہ اپنے قریب رہنے والے کا خیال رکھو ہم ان کا خیال رکھتے ہیں۔اسی طرح اور بہت سے فوائد ہیں جو مرکز میں رہنے والے مرکز سے حاصل کر رہے ہیں۔مثلاً سکول ہے۔سوائے گھٹیالیاں (ضلع سیالکوٹ) کے اور کسی جگہ جماعت کا ہائی سکول قائم نہیں۔لیکن مرکز کے رہنے والوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ ان کے بچے اپنے سکول میں تو حاصل کرتے ہیں۔لیکن دوسروں کو یہ سہولت حاصل نہیں۔پھر کالج ہے۔اگر چہ وہ اس وقت لا ہور میں ہے لیکن جب کالج قادیان میں تھا تو سینکڑوں احمدی جو اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے کی وقتہ