خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 66

1952 66 خطبات محمود یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے ، اچھے اخلاق دکھائے جائیں اور اسلامی تمدن کی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔لیکن واقع یہ ہے کہ ہم ان چیزوں سے ابھی دور نظر آتے ہیں۔وہی برہمن و شو در والی بات، حاکم و محکوم اور افسر و ما تحت والی بات جو دنیا کے لئے عذاب کا موجب بن رہی ہے ہم میں سے بعض میں بھی پائی جاتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ کم تعلیم یافتہ ہیں یا انہیں کوئی فن نہیں آتا اور وہ چھوٹے کام کرنے پر مجبور ہیں اُن کی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جن لوگوں کے سپر د کام کئے جاتے ہیں اُن کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان تصور کریں۔جب تک دونوں فریق کی ذہنیت بدل نہ جائے اُس وقت تک اسلام کی تعلیم دلوں کو موہ نہیں سکتی۔بے شک ایسی صورت میں زید کی تعلیم پھیلے گی ، بکر کی تعلیم پھیلے گی مگر قرآن کریم کی تعلیم اسی صورت میں پھیل سکتی ہے کہ ہم اپنی ذہنیت کو بدلیں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تمدن کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔سر آغا خاں جب لاہور آئے تو اُن کے مرید جو گلگت اور دوسری دور دراز جگہوں سے اُن کا استقبال کرنے کے لئے آئے تھے سات دن قبل ہوائی اڈہ میں خیمے لگا کر بیٹھ گئے تھے۔میں نے جب یہ خبر اخبارات میں پڑھی تو مجھے ہنسی آئی کہ آجکل بھی اس قسم کے بے وقوف لوگ پائے جاتے ہیں۔اسی طرح آج بھی مجھے ہنسی آئی کہ بعض لوگ اپنے اندر احمدیت کی صحیح روح تو پیدا نہیں کرتے لیکن انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ یہ اگر ربوہ سے آئے تھے اور اب واپس جانے والے ہیں تو انہیں الوداع کہہ آئیں۔گویا جس طرح کشتی دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہو جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی آگئے۔فرق صرف یہ ہے کہ وہاں تو کوئی پہلوان ہوتا ہے لیکن یہاں یہ کہا جاتات ہے کہ ہمارا خلیفہ آیا تھا اسے وداع کر آئیں۔اس سے زیادہ جنسی والی بات اور کیا ہوگی۔حالانکہ اصل چیز یہ ہے کہ تم اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرو۔مثلاً اسلام کہتا ہے کہ تم ہمیشہ سچ بولو یعنی جب بھی سچ بولنے کا سوال آئے تو سچی بات بیان کر دو۔اب اگر لوگ تم سے کوئی بات پوچھتے ہیں اور تم سچ بول دیتے ہو تو بے شک یہ بڑی بات ہے۔لیکن اگر تم ایک بات بیان کرتے ہو اور تمہارا باپ بھائی یا بچے اسے جھوٹ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں اس طرح نہیں بلکہ اصل بات یوں ہے تو اس میں خوشی کی کیا بات ہوگی۔یا وہ کیا بات ہوگی جو تم نے احمدیت سے حاصل کی۔احمدیت تمہیں دنیا کے لئے ایک نمونہ بنانے کے لئے آئی ہے اور اگر تم میں سچ بولنے،