خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 32

1952 32 خطبات محمود تبلیغ اس کی حرکت سے ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جماعتوں کی حرکت سے وہ حرکت کرتا ہے۔وکیل التبشیر کے یہ معنی تھے کہ اس نے دنیا کی تبلیغ پر اس طرح قبضہ کر لیا ہو تا کہ غیر احمدی مسلمان تو ایک طرف رہے ہندوؤں اور عیسائیوں کی تبلیغ بھی اس کے ماتحت ہو جاتی۔ایک جرنیل جب لڑائی کے لئے جاتا ہے تو اگر وہ ہوشیار جرنیل ہوتا ہے تو وہ اس طرح حرکت کرتا ہے کہ دشمن کی فوج اُس کے بیچھے پیچھے چلتی ہے۔اور اچھے جرنیل کی علامت یہ ہوتی ہے کہ دشمن کی فوج اُس کے پیچھے پیچھے چلے۔تبلیغ کا بھی یہی اصول ہے کہ جہاں ہم تبلیغ کریں دشمن وہاں جائے۔یہ نہیں کہ جہاں دشمن کی گند پھیلائے وہاں ہم جائیں۔" جب ہم نے ملکانہ میں تبلیغ شروع کی میں نے صوفی عبد القدیر صاحب نیاز اور چودھری فتح محمد صاحب سیال کو ایک وقت میں یا مختلف اوقات میں وہاں بھیجا کہ وہ انداہ لگا کر بتائیں کہ آخر اتنا شور کیوں ہے۔مسلمان کہلا کر انہیں اسلام کا لحاظ تو ہونا چاہیے تھا پھر یکدم کیوں ایسا ہوا کہ وہ مرتد ہونے لگ گئے ہیں۔ان لوگوں نے وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیا اور رپورٹ پیش کی۔ہم نے اس سے پہلے وہاں مبلغ نہیں بھیجے تھے۔انہوں نے وہاں جا کر جائیزہ لیا اور جور پورٹ پیش کی وہ تج نہایت اعلیٰ درجہ کی تھی اور ہماری بعد کی ساری کامیابی اس کا نتیجہ تھی۔70 یا 100 مبلغ ہم نے بھیجا تھا۔اگر اُن کی جگہ ہم 700 مبلغ بھی بھیج دیتے تو وہ نتائج پیدا نہ ہوتے جو پیدا ہوئے۔ہماری تبلیغ کے نتیجہ میں آریوں کو لوہے کے چنے چبانے پڑے اور گاندھی جی کو مرن برت 3 رکھنا پڑا۔اور یہ محض اُس سکیم کا نتیجہ تھا جو ان دونوں افسروں نے پیش کی۔یہ لوگ وہاں گئے اور کی حالات کا جائزہ لے کر انہوں نے یہ رپورٹ پیش کی کہ در اصل بات یہ ہے کہ یہاں جو بڑا گاؤں ہوتا ہے وہ حاکم ہوتا ہے ارد گرد کے چھوٹے دیہات پر۔جدھر بڑے گاؤں والے چل پڑتے ہیں اُدھر ہی دوسرے دیہات والے چلتے ہیں۔چنانچہ ہندوؤں نے پانچ سات گاؤں تجویز کر کے وہاں آدمی بیٹھا دیئے ہیں۔ان کا نام انہوں نے مبلغ نہیں رکھا۔تاجر کے طور پر وہ وہاں گئے اور وہاں جا کر جو غریب لوگ تھے اُنہیں روپیہ قرض دینا شروع کیا۔اور جو بہت زیادہ محتاج دیکھے اُنہیں یہ تحریک کر دی کہ تمہیں مسلمانوں نے کیا فائدہ پہنچایا ہے اگر تم ہندو ہوتے تو ہم کی تمہاری مالی مدد کرتے۔اس طرح جو لوگ اُن کے مطلب کے نکل آئے اُنہیں ہند و ظاہر نہ ہونے دیا بلکہ انہیں ہدایت دی کہ وہ مسلمان رہ کر اندر ہی اندر تحریک کریں۔اس طرح انہوں نے پانچ سات جگہوں پر کارروائی شروع کی۔جہاں وہ دس بارہ آدمی قابو میں لے آتے وہاں بڑے بڑے