خطبات محمود (جلد 33) — Page 350
1952 350 خطبات محمود تو اس طرح چل رہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں مسلمان ہمارا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہی ہیں۔ہمارا مبلغ باہر جائے گا تو وہ کہے گا کہ اسلام میں بے شک جہاد ہے لیکن جہاد کے معنی دفاع ملی کے ہیں۔اب کون احمق ہوگا جو کہے کہ تمہارے ملک پر حملہ ہو جائے تو تم لڑائی نہ کرو۔کون احمق ہو گا جو اس بات کی تردید کرے گا۔کون ایسا شخص ہو گا جو کہے گا کہ تم پر چاہے ظلم ہو رہا ہولیکن تمہارے مذہب کو لڑائی کی تعلیم نہیں دینی چاہیے تم ظلم ہونے دو۔اگر کوئی مذہب کہتا ہے کہ جب تم پر ظلم ہو ، جب تمہارے ملک پر کوئی دوسرا حملہ کر دے تو اُس سے لڑائی کرو اور اپنے ملک کی خاطر قربانیاں دو تو ہر شخص کہے گا کہ یہ بالکل درست ہے۔کیونکہ مذہب کا تعلق اخلاق اور روحانیت سے ہے۔اور اخلاق اور روحانیت یہ چاہتے ہیں کہ ظلم کو روکا جائے۔اگر مذہب اس میں دخل دیتا ہے تو اس کا حق ہے کہ اس میں دخل دے اور کہے کہ تمہارے ملک پر کوئی حملہ کرتا ہے تو تم اُس می کا مقابلہ کرو۔اگر تم یہ لڑائی ملک کے بچانے کی خاطر کرتے ہو تب بھی ثواب کے مستحق ہو گے۔اور اگر مذہب کے بچانے کے لئے لڑائی کرتے ہو تو اور بھی زیادہ ثواب کے مستحق ہو گے۔یہ ایک ایسی تعلیم ہے کہ امریکہ، انگلستان، جرمنی ، فرانس، انڈونیشیا، چین اور جاپان غرض کوئی ملک بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔جو شخص بھی کہے گا کہ چاہے تم پر حملہ ہو تم دوسرے سے نہ لڑو۔تو ہم اس سے کہیں گے کہ اگر تم پر حملہ ہو جائے تو تم دشمن سے لڑو گے یا نہیں؟ اگر روس پر حملہ ہو گا تو کیا روی یہ کہیں گے کہ ہم تو صلح پسند ہیں ہم نہیں لڑیں گے؟ اگر کوئی ہم سے کہے گا کہ تمہاری تعلیم اچھی نہیں ہے کیونکہ وہ لڑائی کا حکم دیتی ہے تو ہم اُس سے دریافت کریں گے کہ اگر دشمن تم پر حملہ کر دے تو کیا تم اس سے لڑو گے یا نہیں ؟ وہ فوراً کہے گا ہاں ہم اُن سے لڑیں گے۔تو ہم اُس سے کہیں گے کہ یہی حکم ہمارا مذ ہب دیتا ہے اور یہ حکم فطرت کے عین مطابق ہے۔جہادصرف ایک دنیوی چیز کو مذہبی تائید حاصل ہونے کا نام ہے۔اگر کوئی دشمن ملک پر حملہ کر دیتا ہے اور لوگ اُس کا دفاع کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کہتا ہے تمہارا ایسا کرنا صرف فطرت کا تقاضا ہی نہیں خدا تعالیٰ بھی اُسے پسند کرتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک دنیوی فعل ہے کو نقد میں دے دی ہے۔مثلاً ایک شخص دوسرے شخص کو کھانا کھلاتا ہے یہ ایک دنیوی فعل ہے۔لیکن اگر وہ ایک یتیم کو کھانا کھلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے اس فعل کو تقدیس دے دیتا ہے کہ وہ ایک یتیم کو کھانا کھلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہے۔پس کھانا ایک ہی ہے لیکن کی