خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 331

1952 331 خطبات محمود شروع میں کہہ دیا گیا تھا کہ قرضے لے لو اور گندم خرید لو۔چنانچہ انہوں نے گندم کے نام سے کی قرض انجمن سے لے لئے۔در حقیقت قحط صرف گندم کا ہے باقی کسی چیز کی قیمت نہیں بڑھی۔آج جی ہی میں ذکر کر رہا تھا تو ایک خاتون نے کہا کہ اب تو لکڑی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔میں نے کہا جب چاول مہنگے تھے اُس وقت تو مہنگائی الاؤنس بڑھانے کا سوال پیدا نہیں ہوا تھا۔ان چیزوں کی قیمتوں میں تھوڑا بہت اُتار چڑھاؤ تو رہتا ہی ہے اور مہنگائی الاؤنس بڑھانے کا سوال تب پیدا ہوتا ہے جب یہ اُتار چڑھاؤ غیر معمولی ہو۔آج کل گندم کا بھاؤ میں یا بائیس روپے فی من ہے۔لیکن جن کا رکنوں نے سال کے شروع میں گیارہ بارہ روپے فی من گندم خرید لی تھی اُن پر اس مہنگائی کا کیا اثر ہے۔پھر بات کر نیوالے نے کہا کہ دراصل بات یہ ہے کہ پیشگی لے کر کسی نے تو کپڑے بنا لئے تھے اور کسی نے روپیہ مکان پر خرچ کر لیا تھا۔میں نے کہا پھر اس تکلیف کا وہ خود ذمہ دار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں عقلی بات یہ ہے کہ جماعت ایک جگہ کی جماعت کا نام نہیں۔جب قحط پڑ گیا تو اس سے سارے لوگ متاثر ہوں گے اور لازمی طور پر کمزور لوگ چندہ دینے میں سستی دکھا ئیں گے اور اس طرح چندہ کی آمد کم ہوگی۔اس لئے اخراجات کی کسی طرح بھی نہیں بڑھائے جا سکتے۔جو جماعتیں چندہ سے چلنے والی ہوں انہیں ان دنوں اپنا چی خرچ کم کرنا ہو گا۔چاہے آدمیوں کو کم کرنے سے ہو یا تنخواہوں کے کم کرنے سے ہو۔اگر اخراجات کم نہیں ہوں گے تو روپیہ آئے گا کس طرح۔اس قحط کا ایک ہی علاج ہے کہ اپنی ضروریات کو کم کر دیا جائے ، اپنی غذا کو کم کر دیا جائے۔جب ہم لاہور آئے تو میں نے یہ قاعدہ بنادیا تھا کہ صرف ایک روٹی کھاؤ۔اس بات کو دیکھ کر کہ زیادہ خوراک کھانے والوں کے لئے ضرورت ہے کہ اُن کے سامنے نمونہ پیش کیا جائے۔میں نے اپنے گھر میں بھی یہ حکم دے دیا تھا کہ ایک وقت میں صرف ایک روٹی کھائی جائے۔ہم اپنا پکاتے تھے لیکن پھر بھی ایک ہی روٹی پر گزارہ کیا جاتا تھا۔وہ وقت عام مصیبت کا تھا اور اُس کی وقت نمونہ دکھانا ضروری تھا۔اور یہ تحریک مہینوں چلی۔یہ عرصہ ستمبر سے جنوری فروری تک چلا گیا۔اس دوران میں لنگر خانہ میں بھی ایک ہی روٹی دی جاتی تھی اور ہم لوگ گھروں پر بھی ایک روٹی ہی کھاتے تھ تھے۔جو مہمان آتے تھے وہ بھی خوشی سے ایک ہی روٹی کھا لیتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کا فرسات آنت میں کھاتا ہے 3۔اس کے معنی یہ ہیں کی