خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 22

1952 22 خطبات محمود میں تم سے اس کام کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔اس کام کا بدلہ میں خدا تعالیٰ سے لوں گا 1 جس نے یہ کام میرے ذمہ لگایا ہے۔کیا اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ کر رہے تھے کہ مجھے کچھ دو؟ یہ صاف بات ہے کہ لوگ انگریزوں کی خدمات بجالاتے تھے اور وہ اُنہیں انعامات بھی دیتے تھے۔لیکن ان خدمات اور انعامات کے مقابلہ میں کوئی شور نہیں پڑتا۔تمام مسلمان چپ ہیں۔لوگ ان انعام یافتوں کی دعوتیں کرتے ہیں اور اس اعزاز کی وجہ سے اُن کا احترام بھی کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کے اس فعل کو نا پسند نہیں کرتے۔اگر مرزا صاحب پر مولوی لوگ اس لئے ناراض ہیں کہ آپ نے انگریزوں سے تعاون کی کیا ، اُن کی مدد کی اور اس طرح اُن کی طاقت کو بڑھایا۔تو سوال یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب کا انگریزوں سے یہ تعاون کسی غرض کے لئے تھا تو انگریزوں نے ان کی کیا مدد کی؟ پنجاب موجود ہے اس میں دس پندرہ ہزار مربع زمین انگریز کی خدمات کے بدلہ میں لوگوں کو ملی ہے۔ان دس پندرہ ہزار مربعوں میں سے مرزا صاحب کو کتنے ملے ہیں؟ یا وہ کون سے خطابات ہیں جو انگریزی کی حکومت نے مرزا صاحب کو دیئے؟ مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں آپ کے زمانہ میں حکومت کی کی طرف سے کسی خطاب یا انعام کی آفر (Offer) نہیں آئی تھی لیکن میرے زمانہ میں حکومت کی نے یہ کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ہم آپ کو کوئی خطاب دینا چاہتے ہیں۔لیکن میں نے ہر دفعہ یہی کہا کہ میں تمہارے خطاب کو ذلت سمجھتا ہوں۔اور جس چیز کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ اپنی ذلت اور ہتک سمجھتا ہے اُس کا بانی اس کی کیا حقیقت اور قیمت سمجھتا ہوگا۔تین دفعہ حکومت نے یہ کہا کہ ہم کوئی خطاب دینا چاہتے ہیں۔ایک دفعہ حکومت ہند کے ایک ممبر نے ایک احمدی کو بلا کر کہا کہ کیا تم اس بات کا پتا کر سکتے ہو کہ اگر ہم مرزا صاحب کو کوئی تکی خطاب دینا چاہیں تو وہ خطاب لے لیں گے ؟ یعنی ان کے دل میں بھی شبہ تھا کہ اگر ہم نے کوئی تھی خطاب دیا تو یہ اسے منظور نہیں کریں گے۔جس شخص سے حکومت کے اُس ممبر نے اس بات کا ذکر کی کیا اُس میں اتنا ایمان نہیں تھا وہ سمجھتا تھا کہ اگر خلیفہ کی شان کے مطابق کوئی انعام مل جائے تو می اس میں ہماری عظمت ہو گی۔اس نے بیوقوفی سے کہہ دیا کہ اگر آپ ان کی شان کے مطابق کوئی حج انعام دے دیں گے تو وہ لے لیں گے۔اور مثال دی کہ جس طرح کا خطاب سر آغا خاں کو دیا گیا ہے جی