خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 285

1952 285 خطبات محمود جاتا ہے؟ کہنے کو تو ہر مذہب والا یہی کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت تھی ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جن میں تعلق باللہ پیدا کرنے کا احساس اُس شدت سے پایا جاتا ہے جس کی شدت سے وہ پایا جانا چاہیے۔100 میں سے 99 نہیں۔ہزار میں سے 999 نہیں۔بلکہ ایک لاکھ میں سے نانوے ہزار نو سو ننانوے اور شاید اس سے بھی کم وہ لوگ نکلیں گے جن میں مذہب کا خیال تو ہے لیکن خدا تعالیٰ سے محبت نہیں۔اور صرف یہی نہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ سے محبت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کا خیال بھی ان میں نہیں پایا جاتا۔ایک انسان تندرست ہے تو می اچھی بات ہے۔لیکن اگر ایک شخص بیمار ہے اور اسے خواہش ہے کہ اُس کا علاج ہو تو بھی اُس کے اچھے ہونے کی امید ہے۔لیکن اگر ایک انسان بیمار ہے اور وہ اپنے علاج کا خیال بھی نہیں کرتا تو اُس کے اچھا ہونے کی امید نہیں ہو سکتی۔ایک لاکھ میں سے نا نوے ہزار نو سو ننانوے کو تو خواہش ہی نہیں کہ اُن کا علاج ہو۔اس لئے امید نہیں کہ وہ اچھے ہوں۔بیماری سے وہی شخص شفا پا سکتا ؟ ہے جس کو یہ احساس ہو کہ میں بیمار ہوں اور اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لئے مجھے کوشش کرنی چاہیے۔ہماری جماعت ایک نئی قائم شدہ جماعت ہے۔اس پر ابھی جوانی کا وقت بھی نہیں آیا لیکن زمانہ کی رو اور گرد و پیش کے حالات کی وجہ سے میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے لوگوں میں یہ جذ بہ نہیں کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کیا جائے ، خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کی جائے۔روزانہ 50 ، 60 خطوط دعا کے لئے مجھے آتے ہیں اور اگر رقعے وغیرہ ملالئے جائیں تو سو سوا سو بن جاتے ہیں۔ان تمام خطوط کو نکال کر دیکھ لو اُن میں یہی ذکر ہوگا کہ میری بیوی بیمار ہے دعا کریں کہ وہ تندرست ہو جائے۔میں نے ایک سودا کیا ہے دعا کریں کہ یہ سودا با برکت ہو، میں نے شادی کرنی ہے دعا کریں کہ کوئی اچھی بیوی مل جائے ، میرے گھر بچہ پیدا ہونے والا ہے دعا کریں کہ لڑکا پیدا ہو، میری ترقی کا وقت آگیا ہے دعا کریں کہ میرے آفیسر مجھے ترقی دے دیں، میں نوکری کرنے والا ہوں دعا کریں کہ مجھے کوئی اچھی ملازمت مل جائے ، میں ایک دکان کھولنے والا ہوں دعا کریں کہ اس دکان میں خدا تعالیٰ برکت ڈالے۔میں نے فلاں فصل بوئی ہے دعا کریں کہ بارش ہو جائے اور فصل اچھی ہو۔غرض سو سوا سو خطوط اسی قسم کے ہوں گے اور معلوم