خطبات محمود (جلد 33) — Page 268
1952 268 خطبات محمود کرنے والا غلطی نہیں کیا کرتا تو پھر اس معاملہ کی تحقیق کرنا ہوگی کیونکہ کوئی فرد یہ نہیں کہ سکتا کہ کی چونکہ میں یوں کہہ رہا ہوں اس لئے یوں ہی سمجھنا چاہیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ سے کوئی غلطی ہو گئی۔حضرت علی بھی مقتدیوں میں شامل تھے۔آپ کی نے لقمہ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تمہیں کس نے کہا ہے کہ لقمہ دو۔اس ناپسندیدگی کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہارے ذمہ اور بڑے بڑے کام ہیں ان چھوٹے کاموں کو اوروں کے لئے رہنے دو۔اور یہ بھی کہ یہ کام اُن قاریوں کا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن سیکھتے تھے۔تم یہ کام اُن کے لئے رہنے دو۔پس یہ ہو سکتا ہے کہ اگر شکایت کرنے والا کوئی بڑا آدمی ہو تو میں اُسے کہوں کہ تم ان باتوں کو کسی اور کے لئے چھوڑ دو اور اپنے اصل کام کی طرف متوجہ رہو۔پس پہلی چیز تو یہی ہے کہ لکھنے والے نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا جس کی وجہ سے اُس کی حیثیت اور درجہ کا علم نہیں ہوسکتا۔دوسری بات یہ ہے کہ اُس نے ناظر صاحب امور عامہ، اور ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ اور لجنہ اماءاللہ کے بعض عیوب بیان کئے ہیں اور پھر میرے پہریداروں کے بعض عیوب کو بیان کیا ہے۔اور یہ کہا ہے کہ فلاں فلاں میں یہ عیب ہے۔یعنی ایک طرف تو وہ ان لوگوں کی شکایت کر رہا ہے کہ وہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف کام کرتے ہیں۔کیونکہ اگر کوئی مسلمان قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف کوئی حرکت نہیں کرتا تو وہ کوئی عیب نہیں کرتا اور دوسری طرف ایسی شکایت کے کرنے میں وہ خود قرآن کریم کے خلاف جاتا ہے کہ اُس نے شکایت اور اس کے ثبوت کی جو شرائط مقرر کی ہیں وہ خود اُن کو توڑ دیتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت اماں جان کو ساتھ لے کر اسٹیشن پر پھر رہے تھے۔اُن دنوں پر دہ کا مفہوم بہت سخت لیا جاتا تھا۔اسٹیشن پر ڈولیوں میں عورتیں آتی تھیں، پھر ڈبہ تک پردہ کا انتظام کیا جاتا تھا اور جب ڈبے میں بیٹھ جاتی تھیں تو کھڑکیاں بند کر دی جاتی ہے تھیں۔یہ پردہ تکلیف دینے والا تھا اور اسلام کی تعلیم کے خلاف تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے تھے۔حضرت اماں جان برقع پہن لیتی تھیں اور سیر کے لئے باہر چلی جاتی تھیں۔اُس دن بھی حضرت اماں جان نے برقع پہنا ہوا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی