خطبات محمود (جلد 33) — Page 257
1952 257 خطبات محمود کے متعلق مساجد میں باتیں کرنا جائز ہے اور دین کا ایک حصہ ہے۔لیکن اگر کوئی اس قسم کی باتیں کرے کہ تم فلاں جگہ سودا لینے گئے تھے وہاں چاول کا کیا بھاؤ ہے۔میں بھی چاول لینے وہاں کی جاؤں گا۔یا آج کل قربانی کے بکرے کا کیا بھاؤ ہے؟ تو یہ قومی بات نہیں۔اس لئے مسجد میں ایسی ہی بات کرنا نا جائز ہے إِلَّا مَا شَاءَ الله - کسی خاص حالت میں اگر وہ یہ پوچھتا ہے کہ فلاں جگہ سے تم نے چاول خریدے ہیں کیا وہاں چاول کستے ہیں تا میں بھی چاول وہیں سے لاؤں؟ تو یہ ناجائز بات ہے۔لیکن اگر کسی علاقہ میں قحط کی صورت ہے اور وہ یہ پوچھتا ہے کہ فلاں جگہ غذائی حالت کیسی ہے چاول کا کیا بھاؤ ہے؟ دال کا کیا بھاؤ ہے؟ گیہوں کا کیا بھاؤ ہے؟ تو یہ باتیں جائز ہونگی کیونکہ ان کا قوم اور ملک سے تعلق ہے اور ان باتوں کے لئے ہی مساجد بنی ہیں۔پس یہ فرق یا درکھو کہ مساجد اصل میں ذکر الہی کے لئے بنی ہیں لیکن ذکر الہی کا قائم مقام وہ کام بھی ہیں جو قومی فائدہ کے ہوں۔خواہ وہ کھانے پینے کے متعلق ہوں یا قضاء کے متعلق ہوں، جھگڑے فسادات کے متعلق ہوں تعلیم کے متعلق ہوں یا کسی اور رنگ میں مسلمان قوم کی ترقی اور تنزل کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ان کاموں کے متعلق مساجد میں باتیں کی جاسکتی ہیں۔خواہ بظاہر یہ باتیں دنیوی معلوم ہوتی ہیں لیکن دراصل یہ قوم سے تعلق رکھتی ہیں اور دین ان سے ہی بنتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مساجد میں اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے، بخشیں کیا کرتے تھے اور اس قسم کے دوسرے معاملات طے کیا کرتے تھے۔پس مساجد میں اس قسم کے کام جائز ہیں کہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان امور کو دین کا جزو بنایا ہے۔ہمارے دین میں ذکر الہی اس کا نام نہیں کہ انسان اللہ اللہ کرتا رہے بلکہ اگر کوئی بیوہ کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے، اگر کوئی یتیم کی پرورش کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے ، اگر کوئی شخص قوم کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے، اگر کوئی شخص جھگڑوں کو دور کرتا ہے، مقدمے طے کرتا ہے صلح کرا تا ہے تو یہ بھی دین ہے۔پس تمام وہ قومی کام جن سے قوم کو فائدہ پہنچے ، وہ قوم کے اخلاق اور اُس کی دنیوی حالت کو اونچا کریں ذکر الہی میں شامل ہیں اور ان کا مساجد میں کرنا جائز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کے کام مساجد میں ہی کیا کرتے تھے۔مثلاً اگر کوئی مہمان آجاتا تو آپ صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتے فلاں مہمان آیا ہے تم میں سے کون اسے ساتھ لے جائے گا ؟ تو ایک صحابی اٹھتا اور عرض کرتا اسے میں ساتھ لے جاتا ہوں۔یا زیادہ مہمان آتے تو کوئی کہتا میں ایک لے جاتا