خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 241

1952 241 خطبات محمود تیز قدمی سے اُس کے قریب آجاتا ہے۔اور جب دشمن اس کے قریب آجاتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس کے اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے۔اس طرح جب دشمن مومن پر وار کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ پر وار کرتا ہے۔پس تمہارے لئے عزت کے حاصل کرنے کا موقع ہے۔تم بہادری کے ساتھ کام کرو۔اگر یہ موقع تمہارے ہاتھوں سے چلا گیا تو تمہارے لئے عزت کے حاصل کرنے کا اور کون سا موقع آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں یہ رواج پڑ گیا ہے کہ وہ نماز کے بعد دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ دعا کا وقت نہیں ہوتا۔دنیا میں تم کسی افسر سے کچھ مانگتے ہو تو اُس وقت مانگتے ہو جب ملاقات کا وقت ہوتا ہے نہ کہ ملاقات کے بعد۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے مانگنے کا وقت وہ ہوتا ہے جب تم اُس کے دربار میں گئے ہوتے ہو۔جب تم نماز پڑھ رہے ہوتے ہو۔اگر وہ موقع تم ہاتھ سے ضائع کر دیتے ہو تو بعد میں دعا کرنا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اسی طرح جب مشکلات آتی ہیں ، مصائب آتے ہیں تو خدا تعالیٰ مومن کے قریب آجاتا ہے اور یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہوتا ہے۔اگر تم اُس وقت کو ضائع کر دیتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ پر کیا امید ہو سکتی ہے کہ وہ تمہاری دعائیں سنے گا ؟ جب ہم نے اُس وقت خدا تعالیٰ سے کچھ نہ مانگا جب وہ ہمارے قریب تھا تو اُس وقت کس طرح مانگیں گے جب وہ دُور ہوگا۔بہترین مچی وقت خدا تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا وہی ہوتا ہے جب تم مشکلات اور مصائب میں پڑے ہوتے ہوتے ہو۔مشکلات اور مصائب کے وقت تمہارا ایمان بڑھنا چاہیے اور تمہیں خوش ہونا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ تمہاری دعائیں سنے گا۔تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ وہ تمہارے زیادہ قریب آ گیا ہے۔تمہیں خوش ہونا چاہیئے کہ اس کے وصال کا وقت آ گیا ہے۔جب ایک عورت کو اُس کا گم شدہ بچہ مل جاتا ہے تو وہ خوشی میں دنیا وَ مَا فِيهَا سے غافل ہو جاتی ہے۔تو جب تمہیں خدا تعالیٰ ملکی جائے تو تمہیں تمہارا دشمن نظر ہی کیوں آئے۔جب تمہیں خدا تعالیٰ مل جائے گا تو تم محسوس ہی نہیں کرو گے کہ کوئی شخص تم سے دشمنی کرتا ہے کیونکہ تم خدا تعالیٰ کی گود میں ہو گے۔میں نے بسا اوقات دیکھا ہے کہ جب کسی غریب ماں کے بچہ کو کوئی دوسرا بچہ مارتا ہے تو وہ کی اپنی ماں کی گود میں بھاگ جاتا ہے اور پھر اُسے گھورتا ہے اور کہتا ہے آتو سہی !! حالانکہ اُس کی ماں خود فقیر ہوتی ہے اور مارنے والا کسی امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔لیکن جب وہ اپنی ماں کی کی گود میں چلا جاتا ہے تو اُسے تسلی ہو جاتی ہے کہ وہ محفوظ ہو گیا ہے۔پھر کتنی شرم کی بات ہے کہ تم مجھے