خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 239

1952 239 خطبات محمود کہ جس میں ہر قسم کی سہولت بہم پہنچانا تمہارے اختیار میں ہوتا ہے تو دوسرے آلام اور مصائب کی میں وہ کتنا قریب ہو جاتا ہوگا۔مومن کو ابتلاؤں میں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے قریب آ گیا ہے۔بچہ ماں کے قریب جاتا ہے تو کتنا خوش ہوتا ہے۔دنیا میں خدا تعالیٰ نے غریبوں کے دلوں کو تسکین دینے کے لئے کیا کیا اسباب بنائے ہیں۔امیراعلیٰ کھانا کھاتے ہیں، اعلیٰ لباس پہنتے ہیں اور تم کہہ سکتے ہو کہ وہ روپے کی وجہ سے خوش ہیں۔لیکن تم ایک غریب ماں کو دیکھتے ہو۔اُس نے بچہ گود میں اٹھایا ہوتا ہے۔اس کے اوپر ایک آدھ کپڑا ہوتا ہے۔بچہ نے ماں کے گلے میں باہیں ڈالی ہوئی ہوتی ہیں اور اس سے پیار کر رہا ہوتا ہے۔اُس کی غریب عورت کو جس نے چیتھڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور فاقہ کی وجہ سے اُس کا چہرہ پچکا ہوا ہوتا ہے اپنے بچہ کو دیکھ کر جتنی خوشی ہوتی ہے وہ اس عورت سے کم نہیں ہوتی جو محلات میں رہتی ہے۔ماں کو بچہ کے قریب ہونے سے خوشی ہوتی ہے اور بچہ کو ماں کے قریب ہونے سے خوشی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک عورت کو دیکھا۔اُس وقت کفار میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔اس عورت کا بچہ کہیں گم ہو گیا۔جنگ میں عورتیں بھی آئی ہوئی تھیں۔ان کی نیت نیک نہیں تھی۔وہ اس ارادہ سے میدانِ جنگ میں آئی تھیں تا اپنے مردوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے اُکسا ئیں۔خدا تعالیٰ نے ان کی خواہش کو پورا نہ کیا۔دشمن کی فوج میں بھا گڑ 2 بچ گئی اور اس کے نتیجہ میں بہت سے بچے اپنی ماؤں سے جدا ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک عورت میدانِ جنگ میں اِدھر اُدھر پھر رہی ہے۔وہ ہر بچے کے پاس جی جو اسے دکھائی دیتا ہے جاتی ہے اور اسے اٹھا کر پیار کرتی ہے اور پھر آگے چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ اُس کا اپنا بچہ مل گیا۔اُس نے اُسے اپنی چھاتی سے لگا لیا اور ایک طرف ہٹ کر ایک پتھر پر کی اطمینان کے ساتھ جا بیٹھی۔لوگ مارے جا رہے تھے لیکن وہ اس سے بے فکر ہو کر ایک طرف اپنے بچے کو لے کر بیٹھ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا تم نے اس عورت کو دیکھا۔یہ میدانِ جنگ میں اِدھر اُدھر بھاگی پھرتی تھی۔اب اسے بچہ مل گیا ہے تو جی کس آرام سے ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئی ہے۔آپ نے فرمایا جب ایک گنہ گار انسان تو بہ کر کے اپنے رب کی طرف آتا ہے تو اُسے بھی اس قدر خوشی ہوتی ہے جس قدر خوشی اس ماں کو اپنے گم شدہ چی بچہ کے ملنے سے ہوئی ہے۔3