خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 207

1952 207 خطبات محمود دوستوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ با قاعدہ تہجد ادا کرنے کی کوشش کریں گے اور محلہ ج کے سوتی آدمیوں نے اس قسم کا وعدہ کیا ہے اور محلہ ب کے متعلق انہوں نے یہ لکھا ہے کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود صدرمحلہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔یہ سستی بھی قوم کو خراب کرتی ہے۔قوم کا بوجھ در حقیقت وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو ہر کام کو اس کے وقت پر کرتے ہیں۔جو کام کو دوسرے وقت پر ٹلا دیتے ہیں وہ قوم کے لئے مفید وجود نہیں بن سکتے۔درحقیقت اخلاق فاضلہ کے بغیر کامیابی نہیں ہوسکتی۔ایک غیر مومن اپنے جتھوں کے پاس جاتا ہے۔وہ اپنے طاقتور ساتھیوں کے پاس جاتا ہے۔لیکن اگر تم مومن ہو اور تم میں ایمان ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ کے پاس جانا چاہیے جو سب سے زیادہ طاقتور ہے۔اگر تم خدا تعالیٰ کے پاس نہیں جاتے تو تمہاری تباہی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔اس کے لئے نہ کسی رؤیا کی ضرورت ہے نہ کسی الہام کی ضرورت ہے۔کیونکہ تم نے دنیا کو بھی مخالف بنالیا اور خدا تعالیٰ سے بھی تعلق قائم نہ رکھا۔ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ذکر الہی کیا کرتے تھے۔ان کا ہمسایہ ایک امیر آدمی تھا جو بادشاہ کا درباری تھا۔وہ ناچ گانے کیا کرتا تھا۔اس کی بزرگ نے اسے کہلا بھیجا کہ یہ بات درست نہیں تم ناچ گانا بند کر دو۔اس درباری نے کہا میں ناچ گانا بند نہیں کرتا۔اس بزرگ نے کہا اگر تم ناچ گانا بند نہیں کرو گے تو ہم زور سے اسے بند کرائیں گے۔تم ہمیں ذکر الہی نہیں کرنے دیتے اور نہ نمازیں پڑھنے دیتے ہو۔وہ شخص بادشاہ کا درباری تھا۔اُس نے بادشاہ کے پاس شکایت کی کہ فلاں بزرگ نے مجھے دھمکی دی ہے۔حالانکہ مومن کا انحصار بندہ پر نہیں ہوتا اُس کا انحصار تو خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے۔بادشاہ نے اس کی حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ مقرر کر دیا۔اس پر اُس درباری نے اپنے ہمسایہ بزرگ کو کہلاتی بھیجا کہ اب تم میرا مقابلہ کر لو۔بادشاہ نے میری حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ مقرر کر دیا کی ہے۔ان کا تو یہ منشاء ہی نہ تھا کہ وہ اس درباری سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔وہ شروع سے ہی جی یہ سمجھتے تھے کہ انکی مدد خدا تعالیٰ نے کرنی ہے اور وہ اس کے سامنے مدد کے لئے جھکیں گے۔انہوں نے اپنے ہمسایہ کے پیغام کے جواب میں کہلا بھیجا کہ ہم تمہارا مقابلہ کریں گے لیکن ظاہری حج تیر و تفنگ اور تلواروں سے نہیں بلکہ ہم تمہارا مقابلہ رات کے تیروں سے کریں گے۔یعنی راتوں کی کو اٹھ کر دعائیں کریں گے اور خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے گا۔یہ ایمان اور یقین سے نکلا ہوا فقرہ کی