خطبات محمود (جلد 33) — Page 176
1952 176 خطبات محمود انڈے دینے بند کر دیئے ہیں دعا کی جائے۔کسی کا ایک ہفتہ کا بچہ مر جاتا ہے جس نے نہ دنیا دیکھی ہوتی ہے اور نہ اس کی پیدائش کے نتیجہ میں اسلام کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے یا کسی کا بچہ ضائع ہو جاتا ہے تو لکھا ہوتا ہے کہ اس کے لئے دعا کی جائے۔بلکہ باوجود بار بار سمجھانے کے چٹھیاں آجاتی ہیں کہ میرا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا ہے حضور اس کا جنازہ پڑھا دیں۔حالانکہ چھوٹے بچے اس بات سے مستغنی ہوتے ہیں کہ کسی ذمہ دار آدمی کے جنازہ پڑھانے کا سوال پیدا ہو۔لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دشمن جماعت کے خلاف شورش پیدا کر رہا ہے اس کے متعلق اُن کا رد عمل کیا ہے۔وہ اس کی بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ انہوں نے اس شرارت کا مقابلہ کرنا ہے۔جب کہ میں نے کی بتایا ہے کہ سیدھی بات ہے شورش کے نتیجے میں دو طرح کا ہی رد عمل ہو سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ میرے لئے اپنی جان دینے کا وقت آگیا ہے۔میرے لئے اپنا گھر ، مکانات اور مال کو قربان کرنے کا وقت آگیا ہے۔اس سے زیادہ خوش قسمتی کیا ہوگی کہ میں اپنی جان، مال اور مکان کو قربان کر دوں۔میرا سب کچھ حاضر ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے مومن صبر کرتے ہیں اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔مومن مستقل رہتے ہیں اور دوسروں کو مستقل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔3 اگر صبر کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے تو مومن بولتا ہے۔قرآن کریم کہتا کہ وہ چپ نہیں کرتا اُسے فوراً اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ میں نے تو صبر کر لیا ہے میرے ساتھیوں کا کیا بنے گا۔وہ فورا اپنے ساتھیوں کو کہتا ہے کہ ہمت کرو۔خدا تعالیٰ کے رستہ میں جان قربان کرنے سے بہتر اور کوئی چیز کی نہیں۔غرض جب بھی صبر کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے مثلاً یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ مرنا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کی کو کہتا ہے میں نے مرنا ہے تم بھی موت کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس وقت خدا تعالیٰ کے رستہ میں جان قربان کرنے کا سوال ہے۔ہمت کرو اور اپنی جانیں پیش کرو۔وہ ایسے وقت میں اپنے ساتھیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔چُپ وہ اُس وقت کرتا ہے جب اس کا بزدلی کی دکھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔غرض ایک فیصلہ وہ ہے جو انسان کرتا ہے تو پچپ نہیں رہتا۔دوسرے میں چُپ رہتا ہے اور وقت آنے پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔جس شخص کے اندر منافقت ہوگی وہ کہتا ہے اس وقت اس بات کو دبا دو پہلے ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے وقت آئے گا تو بز دلی دکھا دیں گے۔پس مجھے تعجب آتا ہے کہ موجودہ شورش کے مقابلہ میں جماعت نے جو خاموشی اختیار کی ہے،