خطبات محمود (جلد 33) — Page 142
1952 142 خطبات محمود اور اس نے کہا کہ مجھے آٹھ آنے کا آٹا دے دیا جائے یا مٹی کے تیل کی ایک بوتل دے دی جائے کی پہلے ایک بوتل ڈیڑھ آنہ میں آجایا کرتی تھی اب چار پانچ آنے میں آ جاتی ہے۔بہر حال ایسے سودوں میں دھیلا ، پیسہ یا دو پیسے کا ہی نفع ہو سکتا ہے۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی دن اچھا سودا ہو جائے اور کوئی گاہک آکر کہے کہ مجھے آٹے کی ایک بوری دے دی جائے اور آٹے کی بوری کی میں آجکل کی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے تاجر کو روپیہ ڈیڑھ روپیہ نفع مل جاتا ہے۔یا کوئی شخص آگیا اور اُس نے کہا کہ مجھے دس ہیں گز کپڑا دے دیا جائے۔یا کوئی بوٹ خریدنے کے لئے آ گیا۔آجکل بوٹ بہت مہنگے ہیں۔وہ سلیپر جو پہلے چودہ آنے میں آیا کرتے تھے اب سات آٹھ روپے کو آتے ہیں۔اس میں بھی تاجر کو روپیہ یا آٹھ آنے کا نفع ہو جاتا ہے۔بہر حال ہر ہفتہ کے پہلے دن جو بھی پہلا سودا ہو خواہ تھوڑے نفع والا ہو خواہ زیادہ نفع والا ہو وہ نفع مسجد فنڈ میں دے دیا جائے۔یہ نفع ہمیشہ کم و بیش ہوتا رہے گا اور چونکہ یہ کسی معین رقم کی شکل میں نہیں اس لئے انسانی نی طبیعت پر اس کا دینا کچھ گراں نہیں گزرتا۔جیسے انگریز قوم میں ہر غریب سے غریب اور امیر سے امیر میں یہ عادت ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ گھوڑوں پر شرطیں باندھنے میں ضرور صرف کرتا ہے اور یہ خرچ اُس کی طبیعت پر گراں نہیں گزرتا کیونکہ اس میں مقابلہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ میں ہفتہ کے پہلے دن پہلا سودا خدا کے نام پر کروں گا تو ہر ہفتہ کے دن اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ دیکھیں آج خدا کے سودے کے لئے دس روپے کا گا ہک آتا ہے یا دو پیسے کا گاہک آتا ہے۔بہر حال دو پیسے کا گاہک آئے یا دو آنے کا یا دو روپے کا اُس کا فرض یہی ہے کہ وہ ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا منافع مساجد کی تعمیر کے لئے دے دیا کرے۔اسی طرح مستریوں ، لوہاروں اور مزدوروں وغیرہ کے متعلق یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وہ ہر مہینہ کے پہلے دن کی مزدوری کا یا کوئی اور دن مقرر کر کے اُس دن کی مزدوری کا ) دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔بالکل ممکن ہے کہ مہینہ کے پہلے دن انہیں مزدوری ہی نہ ملے یا ممکن ہے ملے تو آدھے دن کی مزدوری ملے۔بہر حال اُسے جو بھی مزدوری ملے پورے دن کی ملے یا آدھے دن کی ملے اُس کا دسواں حصہ دینا اُس کے لئے ضروری ہوگا۔اگر ایک ترکھان کو تین روپے مزدوری ملتی ہے تو ساڑھے چار آنے اور اگر آدھے دن کی مزدوری ملتی ہے تو سوا دو آنے اُسے دینے پڑیں گے۔